مختصر جواب

جہاد کا مطلب ہے اللہ (﷾) کی راہ میں جدوجہد، یا کوشش کرنا۔ اس کا مطلب ‘مقدس جنگ’ نہیں۔ جنگ کے لیے عربی لفظ ‘حرب’ ہے، جو ایک الگ لفظ ہے۔ قرآن یا نبی (ﷺ) کے فرمودات میں کوئی ایسا عربی فقرہ نہیں ملتا جس کا مطلب ‘مقدس جنگ’ ہو۔ آپ نے ایک آدمی سے، جو جا کر لڑنا چاہتا تھا، فرمایا کہ اپنا جہاد اپنے والدین کی خدمت میں کرے۔ آپ نے برائی کے خلاف آواز اٹھانے کو بھی جہاد شمار کیا۔ لڑائی جہاد کی ایک صورت ہے۔ اس کی اجازت صرف اللہ (﷾) کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر ہے، اور صرف ایک جائز حکومت ہی جنگ کا اعلان کر سکتی ہے۔ کوئی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔

مکمل وضاحت پڑھیں

اپنے محفوظ کردہ صفحات دیکھیں