مختصر جواب

موسیٰ کی شریعت بہت سے ایسے کاموں کے لیے موت مقرر کرتی ہے جو آج سرے سے جرم ہی نہیں۔ جو کوہ سینا کو چھوتا اسے مرنا تھا۔ اسی طرح وہ باہر کا آدمی جو کاہنوں کے کام کے نزدیک آتا۔ اسی طرح جو کوئی باپ یا ماں کو مارتا یا ان پر لعنت کرتا۔ جو بیٹا بار بار اپنے والدین کی نافرمانی کرتا، اور جسے وہ پیٹو اور شرابی کہتے، اسے اس کے شہر کے مرد سنگسار کرتے۔ اسی طرح جو کاہن یا قاضی کی بات نہ مانتا۔ جو شہر دوسرے معبودوں کی طرف پھر جاتا اسے اس کے مویشیوں سمیت تلوار سے مار کر جلا دینا تھا۔ جو کاہن کی بیٹی فاحشہ بن جاتی اسے آگ میں جلانا تھا۔ یسوع نے والدین پر لعنت کرنے کے قانون کو خدا کا حکم کہہ کر نقل کیا۔ قرآن کسی جان کو صرف انصاف اور قانون کے ذریعے لینے کی اجازت دیتا ہے۔ وہ بیٹے کی نافرمانی کے لیے کوئی دنیاوی سزا مقرر نہیں کرتا۔ نبی (ﷺ) نے دو آدمیوں کو جلانے کا حکم واپس لے لیا، یہ فرماتے ہوئے کہ آگ کا عذاب صرف اللہ (﷾) دیتا ہے۔

مکمل وضاحت پڑھیں

اپنے محفوظ کردہ صفحات دیکھیں