مختصر جواب
جی ہاں۔ بائبل ان باتوں میں بھی اپنے آپ سے اختلاف کرتی ہے جن کے لیے صرف گنتی کافی ہے۔ عزرا اور نحمیاہ جلاوطنی سے واپس آنے والے انہی خاندانوں کی فہرست دیتے ہیں۔ دونوں کل تعداد 42,360 بتاتے ہیں۔ پھر بھی عزرا کی فہرست کا جوڑ 29,818 بنتا ہے اور نحمیاہ کا 31,089۔ سموئیل کہتی ہے کہ داؤد نے 700 رتھوں کے آدمی اور 40,000 سوار قتل کیے۔ تواریخ اسی لڑائی کا ذکر 7,000 رتھ والے آدمیوں اور 40,000 پیادوں کے ساتھ کرتی ہے۔ ایک کتاب کہتی ہے کہ بادشاہ اخزیاہ بائیس برس کی عمر میں سلطنت کرنے لگا، دوسری بیالیس برس کی عمر میں، جس سے وہ اپنے باپ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ بائبل خود کہتی ہے کہ خدا ابتری کا خدا نہیں۔ اس لیے یہ ٹکراؤ اللہ (﷾) کی غلطیاں نہیں۔ یہ متن پر انسانی ہاتھوں کے نشان ہیں۔ قرآن اپنے لیے یہی کسوٹی رکھتا ہے: اگر یہ اللہ (﷾) کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔
مکمل وضاحت
بائبل کا اپنا معیار
پہلی صدی کے مسیحی مبلغ پولس لکھتے ہیں کہ خدا ابتری کا خدا نہیں۔ موسیٰ کی شریعت کہتی ہے کہ خدا انسان نہیں کہ جھوٹ بولے۔ خدا کی طرف سے آنے والی کتاب ایک جگہ ایک بات اور دوسری جگہ اس کا الٹ نہیں کہہ سکتی۔ اس کے اپنے معیار کے مطابق، بائبل میں تضاد خدا کا قصور نہیں۔ وہ دکھاتا ہے کہ کہاں انسانوں نے متن میں ہاتھ ڈالا۔
“کیونکہ خدا ابتری کا نہیں بلکہ امن کا خدا ہے، جیسا مقدسوں کی سب جماعتوں میں ہے۔”
“خدا انسان نہیں کہ جھوٹ بولے؛ اور نہ وہ آدم زاد ہے کہ اپنا ارادہ بدلے: کیا جو کچھ اس نے کہا اسے نہ کرے؟ یا جو فرمایا ہے اسے پورا نہ کرے؟”
واپس آنے والے جلاوطنوں کی مردم شماری
سب سے واضح مثال کے لیے صرف ایک پنسل چاہیے۔ جلاوطنی کے بعد، جب یہودیوں کو بابل میں رہنے کے لیے لے جایا گیا تھا، کچھ خاندان واپس آئے۔ عزرا 2 اور نحمیاہ 7 انہی خاندانوں کی، خاندان بہ خاندان، فہرست دیتے ہیں۔ دونوں کل تعداد 42,360 بتاتے ہیں۔ عزرا کی فہرست جوڑیں تو 29,818 بنتی ہے۔ نحمیاہ کی جوڑیں تو 31,089 بنتی ہے۔ کوئی بھی 42,360 تک نہیں پہنچتی، اور وہ آپس میں بھی متفق نہیں۔ سطریں بھی مختلف ہیں: ارخ کا خاندان ایک کتاب میں 775 ہے اور دوسری میں 652۔
“ساری جماعت مل کر بیالیس ہزار تین سو ساٹھ تھی،”
“ساری جماعت مل کر بیالیس ہزار تین سو ساٹھ تھی،”
“ارخ کی اولاد، سات سو پچھتر۔”
“ارخ کی اولاد، چھ سو باون۔”
ایک لڑائی، اعداد کے دو مجموعے
سموئیل اور تواریخ ارامیوں پر داؤد کی ایک ہی فتح بیان کرتی ہیں۔ سموئیل میں 700 رتھوں کے آدمی اور 40,000 سوار ہیں۔ تواریخ میں 7,000 رتھ والے آدمی اور 40,000 پیادے ہیں۔ وہی چالیس ہزار ایک کتاب میں سوار ہیں اور دوسری میں پیدل سپاہی۔ ایک کتاب جہاں رتھ گنتی ہے، دوسری وہاں آدمی گنتی ہے۔ دونوں درست نہیں ہو سکتیں۔
“اور ارامی اسرائیل کے آگے سے بھاگے؛ اور داؤد نے ارامیوں کے سات سو رتھوں کے آدمی اور چالیس ہزار سوار قتل کیے، اور ان کے لشکر کے سردار سوبک کو ایسا مارا کہ وہ وہیں مر گیا۔”
“لیکن ارامی اسرائیل کے آگے سے بھاگے؛ اور داؤد نے ارامیوں میں سے سات ہزار آدمی جو رتھوں پر لڑتے تھے، اور چالیس ہزار پیادے قتل کیے، اور لشکر کے سردار سوفک کو بھی مار ڈالا۔”
بادشاہوں کی عمریں
سلاطین کہتی ہے کہ اخزیاہ بائیس برس کی عمر میں سلطنت کرنے لگا۔ تواریخ کہتی ہے بیالیس۔ تواریخ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کا باپ یہورام بتیس برس کی عمر میں سلطنت کرنے لگا اور آٹھ برس سلطنت کی، یعنی وہ چالیس برس کی عمر میں مرا۔ بیالیس برس کا بیٹا اپنے باپ سے دو سال بڑا ہو گا۔ اسی طرح یہویاکین سلاطین میں اٹھارہ برس کی عمر میں اور تواریخ میں آٹھ برس کی عمر میں سلطنت کرنے لگتا ہے۔ یہ عبرانی متن کے اعداد ہیں، جیسے کنگ جیمز ورژن (1611 کی پرانی انگریزی بائبل) انہیں چھاپتا ہے۔ NIV (ایک جدید انگریزی بائبل) تواریخ کو بدل کر بائیس اور اٹھارہ کر دیتی ہے۔ اس کے حواشی کہتے ہیں کہ عبرانی میں بیالیس ہے، اور زیادہ تر عبرانی مسودوں میں آٹھ ہے۔
“اخزیاہ بائیس برس کا تھا جب سلطنت کرنے لگا؛ اور اس نے یروشلم میں ایک برس سلطنت کی۔ اور اس کی ماں کا نام عتلیاہ تھا جو شاہ اسرائیل عمری کی بیٹی تھی۔”
“اخزیاہ بیالیس برس کا تھا جب سلطنت کرنے لگا، اور اس نے یروشلم میں ایک برس سلطنت کی۔ اس کی ماں کا نام بھی عتلیاہ تھا جو عمری کی بیٹی تھی۔”
“وہ بتیس برس کا تھا جب سلطنت کرنے لگا، اور اس نے یروشلم میں آٹھ برس سلطنت کی، اور بغیر ماتم کے رخصت ہوا۔ تو بھی انہوں نے اسے داؤد کے شہر میں دفن کیا، پر بادشاہوں کی قبروں میں نہیں۔”
“یہویاکین جب سلطنت کرنے لگا تو اٹھارہ برس کا تھا، اور اس نے یروشلم میں تین مہینے سلطنت کی۔ اور اس کی ماں کا نام نحشتا تھا، جو یروشلم کے الناتن کی بیٹی تھی۔”
“یہویاکین جب سلطنت کرنے لگا تو آٹھ برس کا تھا، اور اس نے یروشلم میں تین مہینے اور دس دن سلطنت کی: اور اس نے وہ کیا جو خداوند کی نظر میں برا تھا۔”
سلیمان کے تھان اور داؤد کی مردم شماری
سلاطین سلیمان کو گھوڑوں کے 40,000 تھان دیتی ہے۔ تواریخ اسے 4,000 دیتی ہے۔ جب داؤد نے لوگوں کو گنا تو سموئیل میں اسرائیل کے 800,000 اور یہوداہ کے 500,000 لڑنے والے مرد ہیں۔ تواریخ میں 1,100,000 اور 470,000 ہیں۔
“اور سلیمان کے پاس اس کے رتھوں کے لیے گھوڑوں کے چالیس ہزار تھان، اور بارہ ہزار سوار تھے۔”
“اور سلیمان کے پاس گھوڑوں اور رتھوں کے لیے چار ہزار تھان، اور بارہ ہزار سوار تھے؛ جنہیں اس نے رتھوں کے شہروں میں، اور یروشلم میں بادشاہ کے پاس رکھا۔”
“اور یوآب نے لوگوں کی مردم شماری کی تعداد بادشاہ کو دی: اور اسرائیل میں آٹھ لاکھ بہادر مرد تھے جو تلوار چلاتے تھے؛ اور یہوداہ کے مرد پانچ لاکھ تھے۔”
“اور یوآب نے لوگوں کی مردم شماری کی تعداد داؤد کو دی۔ اور سارے اسرائیل میں گیارہ لاکھ مرد تھے جو تلوار چلاتے تھے: اور یہوداہ کے چار لاکھ ستر ہزار مرد تھے جو تلوار چلاتے تھے۔”
جولیت کو کس نے قتل کیا؟
1 سموئیل میں داؤد جولیت کو قتل کرتا ہے۔ 2 سموئیل 21:19 کی عبرانی میں، جیسا کہ JPS 1917 (ایک یہودی انگریزی ترجمہ) اسے بیان کرتا ہے، الحنان نام کا ایک آدمی جاتی جولیت کو قتل کرتا ہے۔ تواریخ الحنان کے مقتول کو ‘جولیت کا بھائی’ بنا دیتی ہے۔ کنگ جیمز ورژن 2 سموئیل میں بھی ‘the brother of’ (کا بھائی) کے الفاظ شامل کر دیتا ہے۔ وہ یہ الفاظ ترچھے حروف میں چھاپتا ہے، جو اس کی اپنی علامت ہے ان الفاظ کے لیے جو عبرانی میں نہیں۔ یہ کسی نقل کرنے والے کی چوک نہیں۔ یہ ایک اصلاح ہے۔
“سو داؤد نے ایک فلاخن اور ایک پتھر سے اس فلستی پر غلبہ پایا، اور اس فلستی کو مارا اور قتل کیا؛ لیکن داؤد کے ہاتھ میں کوئی تلوار نہ تھی۔”
“اور جوب میں فلستیوں سے پھر جنگ ہوئی؛ اور یعری ارجیم کے بیٹے بیت لحمی الحنان نے جاتی جولیت کو قتل کیا، جس کے بھالے کی چھڑ جولاہے کے شہتیر کی مانند تھی۔”
“اور پھر جوب میں فلستیوں سے لڑائی ہوئی، جہاں یعری ارجیم کے بیٹے الحنان بیت لحمی نے جاتی جولیت کے بھائی کو قتل کیا، جس کے بھالے کی چھڑ جولاہے کے شہتیر کی مانند تھی۔”
کنگ جیمز ورژن کے چھپے ہوئے ایڈیشن اس آیت میں “the brother of” (کا بھائی) کے الفاظ ترچھے حروف میں چھاپتے ہیں۔ کنگ جیمز کے مترجمین نے ترچھے حروف ان الفاظ کے لیے استعمال کیے جو انہوں نے خود شامل کیے اور جو عبرانی میں نہیں ہیں۔ یہ الفاظ 1 تواریخ 20:5 سے لیے گئے ہیں۔
“اور فلستیوں سے پھر جنگ ہوئی؛ اور یائیر کے بیٹے الحنان نے جاتی جولیت کے بھائی لحمی کو قتل کیا، جس کے بھالے کی چھڑ جولاہے کے شہتیر کی مانند تھی۔”
| سوال | ایک کتاب کہتی ہے | دوسری کتاب کہتی ہے |
|---|---|---|
| جلاوطنی سے کتنے لوگ واپس آئے؟ | عزرا کل تعداد 42,360 بتاتی ہے، مگر اس کی فہرست کا جوڑ 29,818 بنتا ہے (عزرا 2:64)۔ | نحمیاہ وہی کل تعداد بتاتی ہے، مگر اس کی فہرست کا جوڑ 31,089 بنتا ہے (نحمیاہ 7:66)۔ |
| ارامیوں پر داؤد کی فتح | 700 رتھوں کے آدمی اور 40,000 سوار (2 سموئیل 10:18) | رتھوں کے 7,000 آدمی اور 40,000 پیادے (1 تواریخ 19:18) |
| بادشاہ اخزیاہ جب بادشاہ بنا تو اس کی عمر کیا تھی؟ | 22 (2 سلاطین 8:26) | 42 (2 تواریخ 22:2)، اپنے باپ سے دو سال بڑا |
| سلیمان کے پاس گھوڑوں کے کتنے تھان تھے؟ | 40,000 (1 سلاطین 4:26) | 4,000 (2 تواریخ 9:25) |
| جالوت کو کس نے مارا؟ | داؤد نے (1 سموئیل 17:50) | الحنان نے، 2 سموئیل 21:19 کی عبرانی میں۔ کنگ جیمز اسے تواریخ کے مطابق کرنے کے لیے ترچھے حروف میں “کا بھائی” بڑھاتی ہے۔ |
یہ عبرانی متن کے اعداد ہیں۔ کچھ جدید بائبلیں، جیسے NIV، ان میں سے چند کو بدل دیتی ہیں اور عبرانی کو حاشیے میں دیتی ہیں۔ یہ اصلاح ہے، نقل نہیں۔
مصر میں 430 برس
خروج کہتی ہے کہ اسرائیل 430 برس مصر میں رہا۔ یہودی ترجمہ یوں پڑھتا ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے مصر میں رہنے کی مدت تھی۔ لیکن موسیٰ کے دادا قہات ان لوگوں میں تھے جو یعقوب کے ساتھ مصر گئے۔ قہات 133 برس جیے، ان کے بیٹے عمرام 137 برس، اور موسیٰ 80 برس کے تھے جب وہ فرعون کے سامنے کھڑے ہوئے۔ اگر ہر بیٹا اپنے باپ کی زندگی کے آخری سال میں پیدا ہوا ہو، تب بھی کل مدت زیادہ سے زیادہ 350 برس بنتی ہے، 430 نہیں۔ اور نسلیں غائب بھی نہیں ہو سکتیں۔ موسیٰ کی ماں یوکبد خود لاوی کی بیٹی تھیں۔
“اور بنی اسرائیل کو جو مصر میں رہتے تھے، وہاں رہتے ہوئے چار سو تیس برس ہوئے تھے۔”
“اور بنی اسرائیل کے مصر میں رہنے کی مدت چار سو تیس برس تھی۔”
“اور بنی اسرائیل، یعنی یعقوب اور اس کے بیٹوں کے نام جو مصر میں آئے یہ ہیں: یعقوب کا پہلوٹھا روبن۔”
“اور لاوی کے بیٹے؛ جیرسون، قہات اور مراری۔”
“اور قہات کے بیٹے؛ عمرام، اور اضہار، اور حبرون، اور عزی ایل: اور قہات کی عمر ایک سو تینتیس برس کی ہوئی۔”
“اور عمرام نے اپنے باپ کی بہن یوکبد سے بیاہ کیا؛ اور اس سے ہارون اور موسیٰ پیدا ہوئے: اور عمرام کی عمر ایک سو سینتیس برس کی ہوئی۔”
“اور عمرام کی بیوی کا نام یوکبد تھا جو لاوی کی بیٹی تھی، اور مصر میں لاوی کے ہاں پیدا ہوئی تھی: اور عمرام سے اس کے ہارون اور موسیٰ اور ان کی بہن مریم پیدا ہوئے۔”
“اور جب موسیٰ اور ہارون فرعون سے باتیں کرنے لگے تو موسیٰ اسی برس کا اور ہارون تراسی برس کا تھا۔”
صرف اعداد نہیں
نئے عہد نامے کی اناجیل اور اعمال بھی اختلاف کرتے ہیں۔ متی کہتی ہے کہ یہوداہ نے چاندی پھینک دی اور اپنے آپ کو پھانسی دے دی۔ اعمال کہتی ہے کہ اس نے ایک کھیت خریدا، سر کے بل گرا اور پھٹ گیا۔ اس کا اپنا صفحہ ہے۔
“تب یہوداہ نے، جس نے اسے پکڑوایا تھا، یہ دیکھ کر کہ وہ مجرم ٹھہرایا گیا، پچھتایا، اور چاندی کے وہ تیس سکے سردار کاہنوں اور بزرگوں کے پاس واپس لایا، اور کہا، میں نے گناہ کیا کہ بے گناہ خون کو پکڑوایا۔ انہوں نے کہا، ہمیں کیا؟ تو جان۔ اور وہ چاندی کے سکوں کو ہیکل میں پھینک کر چلا گیا، اور جا کر اپنے آپ کو پھانسی دے دی۔”
“اس شخص نے بدکاری کی اجرت سے ایک کھیت خریدا؛ اور سر کے بل گرا، اور اس کا پیٹ بیچ سے پھٹ گیا اور اس کی ساری انتڑیاں نکل پڑیں۔ اور یہ بات یروشلم کے سب رہنے والوں کو معلوم ہوئی؛ یہاں تک کہ اس کھیت کا نام ان کی اپنی زبان میں ہقل دما، یعنی خون کا کھیت، پڑ گیا۔”
خدا کا نام پہلی بار کب معلوم ہوا؟
خروج میں خدا موسیٰ سے کہتا ہے کہ وہ ابراہیم، اسحاق اور یعقوب پر خدائے قادر مطلق کے طور پر ظاہر ہوا۔ لیکن اپنے یہوواہ نام سے وہ ان پر معلوم نہ ہوا۔ پھر بھی پیدائش میں ابراہیم اس پہاڑ کا نام، جہاں انہوں نے اپنے بیٹے کو پیش کیا، یہوواہ یری رکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے خداوند مہیا کرے گا۔ اس طرح ایک کتاب میں ابراہیم یہ نام جانتے تھے، اور دوسری میں نہیں جانتے تھے۔ بہت سے بائبلی علما اس ٹکراؤ کی یوں وضاحت کرتے ہیں۔ موسیٰ کی کتابیں پہلے کے ماخذوں کو ملا کر بنی تھیں۔ ایک ماخذ یہ نام شروع سے استعمال کرتا تھا۔ دوسرا مانتا تھا کہ یہ پہلی بار موسیٰ پر ظاہر کیا گیا۔
“اور میں ابراہیم، اور اسحاق، اور یعقوب پر خدائے قادر مطلق کے نام سے ظاہر ہوا، لیکن اپنے یہوواہ نام سے ان پر ظاہر نہ ہوا۔”
“اور ابراہیم نے اس مقام کا نام یہوواہ یری رکھا: چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا جائے گا۔”
بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والوں نے کیسے دیکھا کہ پانچوں کتابیں سب کی سب موسیٰ کی تصنیف نہیں ہو سکتیں: گیارہویں صدی میں اسحاق ابن یاشوش نے نشاندہی کی کہ پیدائش 36 کے ادومی بادشاہ موسیٰ کے بہت بعد گزرے، اور بعد کے علما نے موسیٰ کی وفات کے بیان اور “آج کے دن تک” جیسے فقروں کی طرف توجہ دلائی۔ جدید بائبلی علم کا یہ نظریہ بیان کرتے ہیں کہ اسفار خمسہ کو بعد کے مرتبین نے کئی پہلے کے ماخذوں سے جوڑ کر بنایا، اور استثنا کو اس “شریعت کی کتاب” سے جوڑتے ہیں جو بادشاہ یوسیاہ کے دور میں ہیکل میں ملی (2 سلاطین 22)، یعنی ساتویں صدی ق م کے آخر میں۔
ایمان یا اعمال؟
کچھ تضاد خود نجات کو چھوتے ہیں۔ پولس کہتے ہیں کہ انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان سے راست باز ٹھہرتا ہے (یعنی خدا کے ساتھ درست ہو جاتا ہے)۔ یعقوب کہتے ہیں کہ انسان اعمال سے راست باز ٹھہرتا ہے، صرف ایمان سے نہیں۔ کلیسیائیں پانچ سو سال سے ان دو آیات پر بٹی ہوئی ہیں۔ اس کا اپنا صفحہ ہے۔
“چنانچہ ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے سبب سے راست باز ٹھہرتا ہے۔”
“پس تم نے دیکھ لیا کہ انسان صرف ایمان ہی سے نہیں بلکہ اعمال سے راست باز ٹھہرتا ہے۔”
خالی قبر پر
چاروں اناجیل کہتی ہیں کہ عورتیں ہفتے کے پہلے دن صبح سویرے یسوع کی قبر پر گئیں۔ وہ اس پر متفق نہیں کہ انہوں نے کیا پایا۔ متی میں مریم مگدلینی اور ‘دوسری مریم’ آتی ہیں، اور ان کے پہنچتے ہی یہ ہوتا ہے: ایک بھونچال آتا ہے، اور ایک فرشتہ اترتا ہے، پتھر لڑھکاتا ہے اور اس پر بیٹھ جاتا ہے۔ مرقس میں عورتیں دیکھتی ہیں کہ پتھر پہلے ہی لڑھکا ہوا ہے۔ اندر انہیں ‘ایک جوان’ ملتا ہے۔ لوقا میں چمکدار پوشاک میں ‘دو مرد’ ان کے پاس کھڑے ہوتے ہیں۔ یوحنا میں مریم مگدلینی اکیلی آتی ہے جب ابھی اندھیرا ہی ہے، اور پتھر کو ہٹا ہوا پاتی ہے۔ بعد میں وہ ‘سفید پوشاک میں دو فرشتے’ دیکھتی ہے۔ اس طرح عورتیں مختلف ہیں، وقت مختلف ہے، اور فرشتوں کی تعداد مختلف ہے۔ مسیحی جواب دیتے ہیں کہ ہر لکھنے والے نے چنا کہ کیا بتائے، اور جو ایک فرشتے کا ذکر کرے وہ دوسرے کا انکار نہیں کرتا۔ پھر بھی متی میں پتھر عورتوں کے آنے پر لڑھکایا جاتا ہے، اور باقی تینوں میں پتھر ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ہٹ چکا ہوتا ہے۔
“اور سبت کے بعد ہفتہ کے پہلے دن پو پھٹتے وقت مریم مگدلینی اور دوسری مریم قبر کو دیکھنے آئیں۔”
“اور دیکھو، ایک بڑا بھونچال آیا: کیونکہ خداوند کا فرشتہ آسمان سے اترا، اور پاس آ کر پتھر کو دروازے سے لڑھکا دیا، اور اس پر بیٹھ گیا۔”
“جب سبت کا دن گزر گیا تو مریم مگدلینی اور یعقوب کی ماں مریم اور سلومی نے خوشبودار چیزیں مول لیں تاکہ آ کر اس پر ملیں۔”
“اور وہ ہفتہ کے پہلے دن بہت سویرے جب سورج نکلا ہی تھا قبر پر آئیں۔”
“جب انہوں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ پتھر لڑھکا ہوا ہے: کیونکہ وہ بہت ہی بڑا تھا۔”
“اور قبر کے اندر جا کر انہوں نے ایک جوان کو سفید لمبا لباس پہنے دائیں طرف بیٹھے دیکھا؛ اور وہ گھبرا گئیں۔”
“اور ایسا ہوا کہ جب وہ اس بات سے بہت حیران تھیں، تو دیکھو، دو مرد چمکدار پوشاک پہنے ان کے پاس آ کھڑے ہوئے:”
“جنہوں نے رسولوں سے یہ باتیں کہیں وہ مریم مگدلینی اور یوانہ اور یعقوب کی ماں مریم اور ان کے ساتھ کی باقی عورتیں تھیں۔”
“ہفتہ کے پہلے دن مریم مگدلینی ایسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا قبر پر آئی، اور پتھر کو قبر سے ہٹا ہوا دیکھا۔”
“اور دو فرشتوں کو سفید پوشاک پہنے بیٹھے دیکھا، ایک سرہانے اور دوسرا پائنتی، جہاں یسوع کی لاش پڑی تھی۔”
‘اصل نسخوں میں غلطی سے پاک’
بہت سے ایوینجلیکل (قدامت پسند پروٹسٹنٹ مسیحی) جواب دیتے ہیں کہ سختی سے کہا جائے تو الہام اصل نسخوں سے تعلق رکھتا ہے، جو اب موجود نہیں۔ اس نظریے کے مطابق غلطیاں بعد میں، نقل کے ذریعے، داخل ہوئیں۔ لیکن وہ اصل نسخے کسی کے پاس نہیں، اس لیے اس دعوے کو جانچا نہیں جا سکتا۔
بائبل پر سب سے مشہور ایوینجلیکل بیان۔ یہ اقرار کرتا ہے کہ کتاب مقدس اپنی ہر تعلیم میں غلطی سے پاک ہے، اور یہ کہ الہام، سختی سے کہا جائے تو، صرف اصل مسودوں پر لاگو ہوتا ہے، جو اب موجود نہیں۔ نقلیں اور ترجمے صرف اسی حد تک خدا کا کلام ہیں جس حد تک وہ اصل کی وفاداری سے نمائندگی کرتے ہیں۔
قرآن کیا کہتا ہے
قرآن اس کی وجہ بتاتا ہے: وہ لوگ جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ (﷾) کی طرف سے ہے۔ ایک عبرانی نبی یرمیاہ پہلے ہی کاتبوں کے جھوٹے قلم کا ذکر کر چکے تھے۔ اور قرآن پڑھنے والے کو وہی کسوٹی پیش کرتا ہے جس پر بائبل پوری نہیں اترتی۔ اگر یہ اللہ (﷾) کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اختلاف سے بھرا ہوتا۔ قرآن کبھی کسی ایک پہلے نسخے پر منحصر نہیں رہا۔ بہت سے لوگوں کو یہ زبانی یاد تھا، زید بن ثابت نے اسے نبی (ﷺ) کے لیے لکھا، اور جبریل ہر سال آپ کے ساتھ اس کا دور کرتے تھے۔
“ان لوگوں کے لئے “ویل” ہے جو اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ تعالیٰ کی طرف کی کہتے ہیں اور اس طرح دنیا کماتے ہیں، ان کے ہاتھوں کی لکھائی کو اور ان کی کمائی کو ویل (ہلاکت) اور افسوس ہے۔”
“تم کیونکر کہتے ہو، “ہم دانا ہیں، اور یہوواہ کی شریعت ہمارے پاس ہے”؟ لیکن دیکھو، کاتبوں کے جھوٹے قلم نے اسے جھوٹ بنا دیا ہے۔”
“کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔”
زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ جب یمامہ میں قرآن کے بہت سے حافظ قتل ہو گئے تو ابو بکر نے ان سے کہا کہ قرآن کو ایک جلد میں جمع کریں، اور انہیں یاد دلایا کہ وہ اللہ کے رسول کے لیے وحی لکھا کرتے تھے۔ زید نے اسے لکھے ہوئے ٹکڑوں سے اور لوگوں کے سینوں سے جمع کیا، اور مکمل نسخہ ابو بکر سے عمر کے پاس اور پھر حفصہ کے پاس پہنچا۔
ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل ہر سال ایک بار نبی (ﷺ) کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے، اور جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال دو بار۔
نکتہ بہ نکتہ
بائبل کی بے خطائی پر شکاگو کا بیان (1978)
بائبل پر سب سے مشہور ایوینجلیکل بیان۔ یہ اقرار کرتا ہے کہ کتاب مقدس اپنی ہر تعلیم میں غلطی سے پاک ہے، اور یہ کہ الہام، سختی سے کہا جائے تو، صرف اصل مسودوں پر لاگو ہوتا ہے، جو اب موجود نہیں۔ نقلیں اور ترجمے صرف اسی حد تک خدا کا کلام ہیں جس حد تک وہ اصل کی وفاداری سے نمائندگی کرتے ہیں۔
اس کے لیے حوالہ
ایوینجلیکل کہتے ہیں کہ اصل نسخے غلطی سے پاک تھے، اور غلطیاں بعد کی نقل کی چوکیں ہیں۔
جواب
اصل نسخے کسی کے پاس نہیں، اس لیے اس دعوے کو جانچا نہیں جا سکتا۔ معیاری عبرانی متن یہی اعداد رکھتا ہے۔ کنگ جیمز ورژن اور یہودی ترجمہ دونوں اسی کی پیروی کرتے ہیں۔ کچھ جدید ترجمے، جیسے NIV، ان میں سے کچھ جگہوں پر یونانی یا سریانی نسخوں کا عدد متن میں ڈال دیتے ہیں۔ سریانی مشرق وسطیٰ کی ایک پرانی زبان ہے۔ یہ ترجمے عبرانی کو حاشیے میں دیتے ہیں۔ یہ اصلاح ہے، نقل نہیں۔ اور بائبل وعدہ کرتی ہے کہ خدا کا کلام ابد تک قائم رہے گا۔ اگر وہ قائم ہے تو غلطیاں کبھی خدا کا کلام نہیں تھیں۔ اگر یہ نقل کی غلطیاں ہیں تو متن بدلا گیا ہے۔
نتیجہ — دونوں صورتوں میں، بائبل جیسی اب ہے، غلطی سے پاک نہیں۔
عزرا 2:64 — صحائف (کتوبیم)، باب 2، آیت 64
“ساری جماعت مل کر بیالیس ہزار تین سو ساٹھ تھی،”
اس کے لیے حوالہ
مسیحی کہتے ہیں کہ 42,360 کے کل میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی فہرست خاندان کے لحاظ سے نہیں دی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ نحمیاہ کی فہرست ایک مختلف وقت میں بنی، جب کچھ خاندان بڑھ یا گھٹ چکے تھے۔
جواب
اگر اس سے 42,360 تک کا فرق سمجھ میں آ بھی جائے، تب بھی دونوں فہرستیں آپس میں اختلاف کرتی رہیں گی۔ وہ سطر بہ سطر اختلاف کرتی ہیں، جیسے ارخ کے خاندان میں۔ اگر فہرستیں مختلف وقتوں میں بنیں تو خاندان بدل گئے لیکن کل تعداد نہیں بدلی۔ دونوں کتابیں ٹھیک 42,360 بتاتی ہیں، وہی 7,337 نوکروں کے ساتھ۔ گانے والے ایک کتاب میں 200 ہیں اور دوسری میں 245۔ بعد کی ایسی گنتی جو درجنوں خاندان بدل دے اور کل تعداد آخری آدمی تک وہی رکھے، بعد کی گنتی نہیں۔
نتیجہ — دونوں کتابیں ایک ہی فہرست پر پھر بھی ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔
خروج 12:40 — تورات، باب 12، آیت 40
“اور بنی اسرائیل کو جو مصر میں رہتے تھے، وہاں رہتے ہوئے چار سو تیس برس ہوئے تھے۔”
اس کے لیے حوالہ
مسیحی کہتے ہیں کہ 430 برس ابراہیم سے کیے گئے وعدے سے گنے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پولس گلتیوں 3:17 میں انہیں یوں ہی گنتے ہیں، اور سپتواجنٹ (یہودی صحیفوں کا پرانا یونانی ترجمہ) بھی۔
جواب
پھر پولس اور خروج کی عبرانی میں اختلاف ہے۔ عبرانی میں خروج 12:40، اور JPS 1917، کہتی ہے کہ 430 برس وہ مدت تھی جس میں اسرائیل مصر میں رہا۔ اگر پولس کی گنتی درست ہے تو عبرانی متن غلط ہے۔ اگر عبرانی درست ہے تو بائبل کی اپنی عمریں زیادہ سے زیادہ 350 کی اجازت دیتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں متن اپنے آپ سے ٹکراتا ہے۔
نتیجہ — پولس 430 برس ابراہیم سے گنتے ہیں، خروج کی عبرانی انہیں سارا مصر میں رکھتی ہے، اور بائبل کی اپنی عمریں زیادہ سے زیادہ 350 کی اجازت دیتی ہیں۔
خروج 6:20 — تورات، باب 6، آیت 20
“اور عمرام نے اپنے باپ کی بہن یوکبد سے بیاہ کیا؛ اور اس سے ہارون اور موسیٰ پیدا ہوئے: اور عمرام کی عمر ایک سو سینتیس برس کی ہوئی۔”
اس کے لیے حوالہ
مسیحی کہتے ہیں کہ نسب نامہ نسلیں چھوڑ دیتا ہے، اس لیے خروج 6 کا عمرام موسیٰ کا دور کا جد تھا، باپ نہیں۔
جواب
گنتی موسیٰ کی ماں کا نام یوکبد بتاتی ہے، جو لاوی کی بیٹی تھیں اور مصر میں لاوی کے ہاں پیدا ہوئیں۔ موسیٰ اپنی ماں کی طرف سے لاوی کے نواسے تھے، اس لیے غائب نسلوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
نتیجہ — بائبل کا اپنا خاندانی سلسلہ اس خلا کو رد کرتا ہے، اس لیے 430 برس پھر بھی پورے نہیں بیٹھتے۔
1 تواریخ 20:5 — صحائف (کتوبیم)، باب 20، آیت 5
“اور فلستیوں سے پھر جنگ ہوئی؛ اور یائیر کے بیٹے الحنان نے جاتی جولیت کے بھائی لحمی کو قتل کیا، جس کے بھالے کی چھڑ جولاہے کے شہتیر کی مانند تھی۔”
اس کے لیے حوالہ
مسیحی کہتے ہیں کہ 2 سموئیل 21:19 کی نقل غلط ہوئی، اور تواریخ صحیح قراءت رکھتی ہے: الحنان نے جولیت کے بھائی کو قتل کیا۔
جواب
یہ ماننا ہے کہ 2 سموئیل کی عبرانی، جیسی وہ ہم تک پہنچی ہے، ایک غلط بات کہتی ہے۔ مترجمین کو اسے مطابق بنانے کے لیے ایسے الفاظ شامل کرنے پڑے جو عبرانی میں نہیں۔
نتیجہ — یہ جواب مان لیتا ہے کہ سموئیل کا متن بدلا گیا۔
یعقوب 2:24 — باب 2، آیت 24
“پس تم نے دیکھ لیا کہ انسان صرف ایمان ہی سے نہیں بلکہ اعمال سے راست باز ٹھہرتا ہے۔”
اس کے لیے حوالہ
مسیحی کہتے ہیں کہ پولس اور یعقوب میں ٹکراؤ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پولس اس کی بات کرتے ہیں کہ انسان خدا کے ساتھ کیسے درست ہوتا ہے، اور یعقوب ان اعمال کی جو دکھاتے ہیں کہ ایمان سچا ہے۔
جواب
دونوں ایک ہی مثال استعمال کرتے ہیں اور الٹ فیصلوں پر پہنچتے ہیں۔ پولس کہتے ہیں کہ ابراہیم کے پاس خدا کے سامنے اعمال کی بنا پر فخر کی کوئی بات نہ تھی۔ یعقوب پوچھتے ہیں، “جب ہمارے باپ ابراہیم ... تو کیا وہ اعمال سے راستباز نہ ٹھہرا؟” اور وہ انہی الفاظ کا انکار کرتے ہیں جن کی پولس کی دلیل کو ضرورت ہے: ‘صرف ایمان ہی سے نہیں’۔ مارٹن لوتھر نے، جو 16ویں صدی میں روم سے پروٹسٹنٹ علیحدگی کے جرمن رہنما تھے، کہا کہ یعقوب راستبازی کو اعمال سے منسوب کر کے پولس کی تردید کرتا ہے۔
نتیجہ — پولس اور یعقوب ایک ہی ابراہیم سے الٹ سبق نکالتے ہیں، اور روم سے پروٹسٹنٹ علیحدگی کے رہنما نے کہا کہ وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔
خروج 6:3 — تورات، باب 6، آیت 3
“اور میں ابراہیم، اور اسحاق، اور یعقوب پر خدائے قادر مطلق کے نام سے ظاہر ہوا، لیکن اپنے یہوواہ نام سے ان پر ظاہر نہ ہوا۔”
اس کے لیے حوالہ
مسیحی کہتے ہیں کہ خروج 6:3 میں ‘known’ (معلوم ہونا) کا مطلب تجربے سے جاننا ہے۔ ابراہیم یہ نام جانتے تھے لیکن انہوں نے ابھی خدا کو اپنے عہد کے وعدے پورے کرتے نہیں دیکھا تھا، جیسے اسرائیل خروج میں دیکھے گا۔
جواب
یہ آیت یہوواہ کے نام کو خدائے قادر مطلق کے نام کے مقابل رکھتی ہے، جس نام سے خدا کہتا ہے کہ وہ ان پر ظاہر ہوا۔ بات اس کی ہے کہ انہیں کون سا نام دیا گیا، اس کی نہیں کہ وہ اسے کتنا جانتے تھے۔ پیدائش میں ابراہیم پہاڑ کا نام رکھنے میں یہی نام استعمال کرتے ہیں۔ بہت سے علما اس کے بجائے اس ٹکراؤ کی وضاحت دو ماخذوں کے جوڑے جانے سے کرتے ہیں، جو یہ ماننا ہے کہ ٹکراؤ موجود ہے۔
نتیجہ — خروج کہتی ہے کہ بزرگ یہ نام نہیں جانتے تھے؛ پیدائش میں ابراہیم اسے استعمال کرتے ہیں۔
مختلف نقطۂ نظر
ایوینجلیکل مسیحی
بائبل اپنے اصل مسودوں میں خدا کا بے خطا (غلطی سے پاک) کلام ہے۔ آج کے نسخوں کے اختلافات ناموں اور اعداد میں نقل کی چوکیں ہیں، اور ان میں سے کوئی عقیدے کو نہیں چھوتا۔
سختی سے کہا جائے تو الہام اصل نسخوں سے تعلق رکھتا ہے۔ بعد کے نسخے صرف اسی حد تک خدا کا کلام ہیں جس حد تک وہ ان سے مطابقت رکھتے ہیں۔
تردید
اس نظریے کے مطابق، کسی بھی پڑھنے والے کے ہاتھ میں جو بائبل ہے وہ غلطی سے پاک متن نہیں۔ اور کسی کے پاس اصل نسخے نہیں جن سے جانچا جائے۔ اور یہ ٹکراؤ صرف ناموں اور اعداد کی چوکیں بھی نہیں۔ پولس اور یعقوب اس بات میں اختلاف کرتے ہیں کہ انسان خدا کے ساتھ کیسے درست ہوتا ہے، اور یہ خود نجات کو چھوتا ہے۔
عدالت میں گواہ کبھی کوئی واقعہ بالکل ایک طرح بیان نہیں کرتے۔ چھوٹے اختلافات دکھاتے ہیں کہ اناجیل سچے، الگ الگ بیانات ہیں۔
تردید
گواہ چھوٹی تفصیلات میں اختلاف کر سکتے ہیں۔ لیکن کچھ اختلافات دونوں سچ نہیں ہو سکتے۔ متی میں یسوع سلیمان کے ذریعے داؤد کی نسل سے ہے (1:6)۔ لوقا میں وہ ناتن کے ذریعے اس نسل سے ہے (3:31)۔ کچھ کہتے ہیں کہ لوقا مریم کا نسب دیتی ہے، لیکن لوقا یوسف کا نام لیتی ہے، “اور وہ عیلی کا” (3:23)۔ بائبل کہتی ہے: “خدا ابتری کا نہیں، بلکہ امن کا بانی ہے” (1 کرنتھیوں 14:33)۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ (﷾) کی طرف سے آنے والی کتاب میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا (4:82)۔
اسلامی نقطۂ نظر
اللہ (﷾) کا کلام اپنے آپ سے نہیں ٹکراتا۔ بائبل اپنی موجودہ شکل میں ٹکراتی ہے، گنتی کے سیدھے معاملات میں بھی، اس لیے اس پر انسانی ہاتھوں نے کام کیا ہے۔ قرآن، جو نبی (ﷺ) پر نازل ہوا، ٹھیک اسی کسوٹی کی دعوت دیتا ہے۔
بائبل کہتی ہے کہ خدا ابتری کا خدا نہیں اور جھوٹ نہیں بول سکتا۔
عزرا 2 اور نحمیاہ 7 دونوں کا کل 42,360 ہے، لیکن ان کی فہرستوں کا جوڑ 29,818 اور 31,089 بنتا ہے۔
ایک ہی لڑائی کے لیے سموئیل میں 700 رتھوں کے آدمی اور 40,000 سوار ہیں۔ تواریخ میں 7,000 رتھ والے آدمی اور 40,000 پیدل آدمی ہیں۔
تواریخ اخزیاہ کو اس کے اپنے باپ سے دو سال بڑا بنا دیتی ہے۔
2 سموئیل 21:19 کی عبرانی میں الحنان جولیت کو قتل کرتا ہے۔ کنگ جیمز ورژن تواریخ سے مطابقت کے لیے ‘the brother of’ (کا بھائی) شامل کر دیتا ہے۔
بائبل قہات، عمرام اور موسیٰ کی عمریں بتاتی ہے۔ ان سے مصر میں زیادہ سے زیادہ 350 برس کی گنجائش نکلتی ہے، 430 کی نہیں۔
پولس اور یعقوب اس سوال کے الٹ جواب دیتے ہیں کہ کیا انسان صرف ایمان سے راست باز ٹھہرتا ہے۔
قرآن سکھاتا ہے کہ لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے صحیفہ لکھا۔ اور وہ اپنے تضاد سے پاک ہونے کو اپنے ماخذ کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔