مختصر جواب

نہیں۔ انجیلوں کے لکھنے والے نہ نبی تھے، نہ انہیں الہام ملا تھا۔ کوئی یقین سے نہیں جانتا کہ چاروں انجیلیں کس نے لکھیں۔ ان کے نام بعد میں جوڑے گئے، اور یہ کتابیں عیسیٰ کے کئی دہائیوں بعد لکھی گئیں۔ کلیسیائیں کہتی ہیں کہ روح القدس نے انہیں الہام دیا۔ مگر تثلیث میں روح القدس خدا ہے۔ اگر خدا نے انہیں ان کے الفاظ دیے، تو وہ مصنف نہیں، نبی ٹھہرتے۔ کوئی کلیسیا انہیں نبی نہیں کہتی، اور انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا۔ انہوں نے مصنفوں کی طرح لکھا: عام لوگ اپنے اپنے بیانات دے رہے تھے۔ ان کی کتابیں یہی دکھاتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے نقل کرتے ہیں، آپس میں اختلاف کرتے ہیں، اور غلطیاں کرتے ہیں۔ اس لیے آج ہمارے پاس جو بائبل ہے، اسے “الہامی” کہنا غلط ہے۔ عیسیٰ نے ایک انجیل کی منادی کی تھی: وہ انجیل جو اللہ (﷾) نے انہیں دی تھی۔ مگر ان کے اپنے الفاظ میں اس کا کوئی ریکارڈ باقی نہیں رہا۔ انہوں نے جو کہا، اس کے صرف ٹکڑے باقی ہیں، یونانی میں، دوسروں کی لکھی کتابوں میں۔ اللہ (﷾) کا آخری کلام، قرآن، پیغمبر محمد (ﷺ) پر نازل ہوا۔ وہ ان کی زندگی میں لکھا گیا، اور اللہ (﷾) نے اس کی حفاظت کا وعدہ کیا۔

مکمل وضاحت پڑھیں

اپنے محفوظ کردہ صفحات دیکھیں