مختصر جواب

نہیں۔ بائبل کے اپنے نبی کہتے ہیں کہ ہر شخص اپنے گناہ کا خود جواب دہ ہے۔ موسیٰ کی شریعت کہتی ہے کہ بیٹوں کے بدلے باپ مارے نہ جائیں، نہ باپ کے بدلے بیٹے۔ حزقی ایل نے لکھا کہ بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ عیسیٰ نے فرمایا کہ ہر ایک کو اس کے کاموں کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔ جب موسیٰ نے اپنی قوم کے کفارے کے لیے خود کو پیش کیا تو خدا نے فرمایا کہ وہ اسی کو مٹائے گا جس نے گناہ کیا۔ کوئی عدالت قصوروار کی جگہ کسی بے گناہ کو سزا دینے کو انصاف نہیں کہتی۔ اسلام کا جواب بھی یہی ہے: کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (قرآن 6:164 اور 53:38)۔ آدم اور ان کی بیوی نے اپنے ہی گناہ کی معافی مانگی، اور اللہ (﷾) نے انہیں معاف کر دیا۔

مکمل وضاحت پڑھیں

اپنے محفوظ کردہ صفحات دیکھیں