مختصر جواب
جی ہاں، اور اکثر بڑی سختی سے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ارتداد کے قوانین صرف اسلام میں رہے ہیں۔ مگر مسیحی قانون نے بھی ایک ہزار سال سے زیادہ مذہب بدلنے پر سزا دی۔ روم کے مسیحی شہنشاہ دین چھوڑنے والے سے اس کے حقوق چھین لیتے تھے: نہ وصیت، نہ وراثت۔ 13ویں صدی میں قشتالہ کے ضابطۂ قانون نے مسلمان ہونے والے مسیحی کو موت کی سزا دی۔ 1512 میں پرتگالیوں نے فرناؤ لوپیز کی ناک، کان، دایاں ہاتھ اور بایاں انگوٹھا کاٹ دیا۔ وہ ہندوستان میں ایک سپاہی تھا جو مسلمان ہو کر مسلمانوں کی طرف چلا گیا تھا۔ ہسپانوی انکوزیشن نے لوگوں کو اسلام پر قائم رہنے یا اسے قبول کرنے پر جلا دیا۔ 1680 میں قادس کا ایک آدمی جو اپنے اسلام پر قائم رہا، میڈرڈ میں زندہ جلا دیا گیا۔ پرتگال کے 1603 کے قانون نے مغربی افریقہ سے لائے گئے غلاموں کو بپتسمہ دینے کا حکم دیا، اور بچوں کو ان کی رضامندی کے بغیر۔ موسیٰ کی شریعت بھی دوسرے معبودوں کی طرف پھرنے پر موت کا حکم دیتی ہے۔ اسلام میں ارتداد کی اپنی سزا غداری کے خلاف ایک قانون تھی، اور صرف کسی مسلم ریاست کی عدالت ہی اسے نافذ کر سکتی تھی۔ آج بھی بہت سے نومسلموں کو ان کے اپنے گھر والے ٹھکرا دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: “دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں”۔
مکمل وضاحت
روم کے مسیحی شہنشاہ
جب رومی سلطنت مسیحی ہوئی تو اس نے دین چھوڑنے والوں کو سزا دی۔ کیتھولک انسائیکلوپیڈیا شہنشاہ تھیوڈوسیس اور جسٹینین کے ضابطہ ہائے قانون کا خلاصہ دیتا ہے۔ مرتدین اپنے تمام شہری حقوق کھو دیتے تھے۔ وہ عدالت میں گواہی نہیں دے سکتے تھے۔ نہ وہ اپنی جائیداد کسی کو دے سکتے تھے، نہ وراثت پا سکتے تھے۔
“جب رومی سلطنت مسیحی ہوئی تو مرتدین کو تمام شہری حقوق سے محروم کر کے سزا دی گئی۔ وہ عدالت میں گواہی نہیں دے سکتے تھے، اور نہ جائیداد کی وصیت کر سکتے تھے، نہ وراثت پا سکتے تھے۔” یہ تھیوڈوسی ضابطہ، کتاب 16، عنوان 7 (مرتدین کے بارے میں)، اور ضابطۂ جسٹینین، کتاب 1، عنوان 7 کا حوالہ دیتا ہے۔ “قرونِ وسطیٰ میں شہری اور کلیسائی دونوں قوانین مرتدین کو بدعتیوں کے ساتھ رکھتے تھے۔”
- چوتھی اور پانچویں صدی
مسیحی روم
مرتدین اپنے شہری حقوق کھو دیتے ہیں: نہ گواہی، نہ وصیت، نہ وراثت۔
- 13ویں صدی
قشتالہ کا ضابطہ
مسلمان ہونے والا مسیحی اس پر مرے گا۔
- 1499
غرناطہ
مسلمان ہو چکے مسیحی لوٹنے سے انکار کریں تو قید کیے جاتے ہیں۔
- 1512
گوا
فرناؤ لوپیز اپنی ناک، کان، دایاں ہاتھ اور بایاں انگوٹھا کھو دیتا ہے۔
- 1559
اشبیلیہ
تین موریسکو اسلام پر قائم رہنے پر جلائے جاتے ہیں۔
- 1603
پرتگال اور برازیل
گنی کے غلاموں کو بپتسمہ دینا ہوگا؛ بچوں کو ان کی رضامندی کے بغیر۔
- 1680
میڈرڈ
مصطفیٰ کہلانے والے لازارو فرنانڈیز کو اسلام پر قائم رہنے پر زندہ جلایا جاتا ہے۔
- 2010
برطانیہ
سروے میں شامل 66% نومسلم کہتے ہیں کہ گھر والوں نے برا ردعمل دیا۔
قشتالہ کا قانون: مسلمان ہونے پر موت
سیئتے پارتیداس 13ویں صدی کے قشتالہ کے بادشاہ الفانسو دہم کا بڑا ضابطۂ قانون ہے۔ اس کا ایک قانون مسلمان ہونے والے مسیحی کو غدار کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر وہ بادشاہ کی سرزمین میں ملے تو “اسے اس پر مرنے دیا جائے”۔ اگلا قانون اس کے بارے میں ہے جو مسلمان ہو کر پھر لوٹ آئے۔ اسے پھر بھی سزا ملنی تھی اور عمر بھر کا داغ لگنا تھا۔ وہ کبھی گواہی نہیں دے سکتا تھا، نہ عہدہ پا سکتا تھا، نہ وصیت کر سکتا تھا، نہ وراثت پا سکتا تھا۔ پھر بھی یہی ضابطہ مسلمانوں کو زبردستی مسیحی بنانے سے منع کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انہیں اچھی باتوں سے جیتا جائے، “طاقت سے نہیں”۔
قشتالہ کے بادشاہ الفانسو دہم کے ضابطۂ قانون میں مسلمانوں (موروں) پر عنوان۔ قانون 2 کہتا ہے کہ مسیحیوں کو مسلمانوں کو اچھی باتوں اور وعظ سے دین میں لانا چاہیے، “طاقت سے نہیں”، اور انہیں مجبور کرنے سے منع کرتا ہے۔ قانون 4 کہتا ہے کہ جو مسیح کا ایمان چھوڑ کر مور بن جاتے ہیں، وہ بہت بڑی بدی اور غداری کرتے ہیں؛ اگر ایسا شخص ہماری سلطنت میں کہیں ملے تو “اسے اس پر مرنے دیا جائے” (que muera por ello)۔ قانون 5 کہتا ہے کہ مرتد، یعنی وہ مسیحی جو یہودی یا مور بنا اور پھر توبہ کر کے لوٹ آیا، پھر بھی بغیر سزا نہیں چھوٹے گا: اس پر ہمیشہ کے لیے بدنامی کا داغ لگے گا، اس کی گواہی کبھی قبول نہیں ہوگی، وہ کوئی عہدہ نہیں پا سکے گا، اور نہ وصیت کر سکے گا، نہ کسی کا وارث بن سکے گا۔
غرناطہ، 1499: اسلام قبول کرنے والے قید میں
اسپین کی آخری مسلم سلطنت غرناطہ نے 1492 میں ہتھیار ڈال دیے۔ اس کا معاہدہ مسلمان ہو چکے مسیحیوں کو مسیحیت میں واپسی پر مجبور کرنے سے روکتا تھا۔ 1499 میں کارڈینل سسنیروس نے معاہدے کی ایک خامی سے فائدہ اٹھا کر انہیں طلب کیا۔ جنہوں نے مسیحیت میں لوٹنے سے انکار کیا، انہیں اس نے قید کر دیا۔ 18 دسمبر 1499 کو ایسی ہی ایک عورت کو لے جایا جا رہا تھا۔ اس نے چیخ کر کہا کہ اسے زبردستی مسیحی بنایا جا رہا ہے، اور شہر میں بغاوت پھوٹ پڑی۔ اس کے بعد اسپین نے معاہدے کو ایک طرف رکھ دیا۔
غرناطہ کا معاہدہ ‘الچیس’، یعنی مسلمان ہو چکے مسیحیوں، کو ان کی مرضی کے خلاف مسیحیت میں واپسی پر مجبور کرنے سے روکتا تھا۔ 1499 میں کارڈینل فرانسسکو خمینیز دی سسنیروس نے ایک خامی سے فائدہ اٹھا کر الچیس کو طلب کیا اور مسیحیت میں لوٹنے سے انکار کرنے والوں کو قید کیا۔ 18 دسمبر 1499 کو ایک الچی عورت کو لے جانے والے اہلکاروں کو اس وقت گھیر لیا گیا جب اس نے چیخ کر کہا کہ اسے زبردستی مسیحی بنایا جا رہا ہے، اور بغاوت شروع ہو گئی۔ اس کو کچلنے کو معاہدہ توڑنے کا بہانہ بنایا گیا، اور مسلمانوں کے سامنے بپتسمہ، غلامی یا موت، یا جلاوطنی رکھی گئی؛ 1501 تک غرناطہ کے مسلمان نام کے مسیحی بن چکے تھے۔
مسلمان ہونے پر اعضا کاٹے گئے: فرناؤ لوپیز، 1512
فرناؤ لوپیز ہندوستان کے گوا میں ایک پرتگالی سپاہی تھا، جسے پرتگال نے 1510 میں فتح کیا تھا۔ وہاں وہ مسلمان ہوا، ایک مقامی عورت سے شادی کی اور مسلمانوں کی طرف چلا گیا۔ 1512 میں پرتگالیوں نے شہر واپس لے لیا۔ مسلم سالار رسول خان نے پرتگالی نومسلموں کو اس وعدے پر حوالے کیا کہ ان کی جان بخشی جائے گی۔ مگر گورنر افونسو دی البوکرک نے انہیں اذیت دلوائی، اور ان میں سے بہت سے مر گئے۔ لوپیز کی ناک، کان، دایاں ہاتھ اور بایاں انگوٹھا کاٹ دیا گیا۔ 1516 میں اسے ڈر تھا کہ لزبن میں اس سے غدار جیسا سلوک ہوگا۔ چنانچہ وہ دور دراز جزیرے سینٹ ہیلینا پر اپنا جہاز چھوڑ کر اتر گیا۔ وہ 1545 میں اپنی موت تک وہاں تقریباً اکیلا رہا۔
ایک پرتگالی سپاہی جس نے 1510 میں افونسو دی البوکرک کے تحت گوا کی فتح میں حصہ لیا۔ جب تقریباً دو سال بعد البوکرک لوٹا تو لوپیز ایک مقامی عورت سے شادی کر کے اسلام قبول کر چکا تھا اور رسول خان کی طرف جا چکا تھا۔ رسول خان نے پرتگالی منحرفین کو اس شرط پر حوالے کیا کہ ان کی جان بخشی جائے؛ مگر انہیں اذیت دی گئی اور بہت سے مر گئے۔ ان کے سرغنہ کے طور پر لوپیز کی ناک، کان، دایاں ہاتھ اور بایاں انگوٹھا کاٹ دیا گیا۔ گھر واپسی پر اس نے دور دراز جزیرے سینٹ ہیلینا پر رہنا چنا، جہاں وہ تقریباً اکیلا کوئی تیس سال رہا اور 1545 میں مر گیا۔
فرناؤ لوپیز پر اے۔ آر۔ عزام کی کتاب پر تبصرہ۔ لوپیز مسلمان ہوا اور بیجاپور کے مسلم حکمران کے لیے اپنے ہم وطنوں سے لڑنے کی پیشکش کی۔ البوکرک نے اپنے کارندوں کو لوپیز کی ناک، کان، دایاں ہاتھ اور بایاں انگوٹھا کاٹنے کا حکم دیا۔ 1516 میں اسے شاہی معافی ملی اور وہ پرتگال روانہ ہوا، مگر لزبن میں غدار جیسے سلوک کے ڈر سے سینٹ ہیلینا پر جہاز سے اتر گیا۔ وہاں 14 سال بعد وہ ایک گزرتے جہاز سے لزبن لوٹا اور بادشاہ اور ملکہ سے ملا، پھر اپنے جزیرے پر واپس چلا گیا، جہاں کوئی بارہ سال بعد اس کی وفات ہوئی۔
1510: پرتگال گوا فتح کرتا ہے
پرتگالی سپاہی لوپیز کو چھاؤنی میں چھوڑا جاتا ہے۔
وہ مسلمان ہوتا ہے
وہ ایک مقامی عورت سے شادی کرتا ہے اور مسلمانوں کی طرف چلا جاتا ہے۔
1512: جان کا وعدہ، پھر اعضا کاٹے گئے
اس کی ناک، کان، دایاں ہاتھ اور بایاں انگوٹھا کاٹ دیا جاتا ہے۔
1516: سینٹ ہیلینا پر رہ جاتا ہے
لزبن میں غدار جیسے سلوک کے ڈر سے وہ جزیرے پر جہاز چھوڑ دیتا ہے۔
1545: جزیرے پر اس کی وفات
وہ وہاں تقریباً تیس سال تقریباً اکیلا رہا۔
اسلام پر قائم رہنے پر جلائے گئے
1502 سے قشتالہ کے مسلمانوں کو بپتسمہ لینا تھا یا ملک چھوڑنا تھا۔ انہیں موریسکو کہا گیا۔ انکوزیشن، یعنی غلط سمجھے گئے عقائد کے لیے کلیسا کی عدالت، نے پھر ان پر چھپ کر اسلام پر قائم رہنے کے مقدمے چلائے۔ اشبیلیہ میں 24 ستمبر 1559 کو تین موریسکو جلائے گئے۔ مسلمان ہونے والے مسیحی بھی جلائے گئے۔ ‘آؤتو دا فے’ وہ عوامی تقریب تھی جس میں انکوزیشن کے فیصلے پڑھے جاتے تھے۔ 30 جون 1680 کو میڈرڈ کے بڑے آؤتو دا فے میں ملزموں میں ایک مسلمان تھا۔ اس کا نام لازارو فرنانڈیز تھا، جسے مصطفیٰ کہتے تھے، اور وہ قادس کا تھا۔ وہ مسلمان ہو گیا تھا اور بحری قزاق کے طور پر جہاز چلاتا تھا۔ مؤرخ ہنری چارلس لی لکھتے ہیں کہ وہ اپنے نئے دین پر ڈٹا رہا اور “زندہ جلا دیا گیا”۔
انکوزیشن کی طرف سے موریسکو لوگوں، یعنی زبردستی بپتسمہ دیے گئے اسپین کے مسلمانوں، پر اسلام پر قائم رہنے کے مقدموں کے بارے میں۔ “24 ستمبر 1559 کے اشبیلیہ کے آؤتو دا فے میں تین موریسکو جلائے گئے اور آٹھ کو توبہ کے لباس اور قید کے ساتھ مصالحت میں لیا گیا؛ ان میں سے چھ کو کوڑے بھی لگائے گئے، جن میں تین عورتیں تھیں۔” 30 جون 1680 کے میڈرڈ کے بڑے آؤتو دا فے کے بارے میں: “اس میں صرف ایک محمدی تھا، لازارو فرنانڈیز، عرف مصطفیٰ، قادس کا باشندہ، جو مرتد ہو کر بحری قزاق بن گیا تھا؛ وہ اپنے اختیار کیے ہوئے دین پر اڑا رہا اور زندہ جلا دیا گیا۔”
ہتھیار ڈالنے کی ان شرائط کو بیان کرتے ہیں جن کے تحت فرڈینینڈ اور ازابیلا نے غرناطہ کے مسلمانوں کو رعایا کے طور پر قبول کیا، اور ان سے ان کی زمینوں، ان کی مسجدوں اور ان کے اپنے قانون کا وعدہ کیا۔ بیان کرتے ہیں کہ غرناطہ میں جبری تبدیلی مذہب ٹولیڈو کے آرچ بشپ فرانسسکو خیمینس دے سسنیروس کے من مانے طریقوں کے بعد ہوئی، اور یہ کہ 12 فروری 1502 کے شاہی فرمان (پراگماتیکا) نے تمام موروں کو اپریل کے آخر تک قشتالہ اور لیون کی سلطنتیں چھوڑنے کا حکم دیا، چودہ سال سے کم عمر لڑکوں اور بارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کو روک کر، ایسی شرائط پر جنہوں نے جانا ناممکن بنا دیا: وہ صرف بسکے کی بندرگاہوں سے روانہ ہو سکتے تھے، ناوار، اراگون، ترکوں یا افریقہ کے موروں کی طرف نہیں جا سکتے تھے، اور رکنے پر موت کا سامنا تھا۔ لی کہتے ہیں کہ فرمان نے کوئی اعلانیہ متبادل پیش نہیں کیا، تاکہ تبدیلی مذہب کو، جو اس سے بچنے کا واحد راستہ تھا، رضاکارانہ کہا جا سکے؛ وہ اس عبارت کا عنوان “قشتالہ میں جبری تبدیلی مذہب” رکھتے ہیں۔
غلام بنائے گئے افریقی: قانون کے ذریعے بپتسمہ
امریکہ لے جائے گئے افریقیوں میں سے لاکھوں مسلمان تھے۔ پرتگال کا 1603 کا ضابطۂ قانون برازیل میں بھی نافذ تھا۔ اس نے گنی کے غلاموں کے ہر مالک کو حکم دیا کہ چھ مہینے میں انہیں بپتسمہ دلوائے۔ جو مالک ایسا نہ کرتا، اس کے غلام انہیں مانگنے والے کو مل جاتے۔ دس سال یا اس سے کم عمر بچوں کو ایک مہینے میں بپتسمہ دینا تھا۔ قانون اس کی وجہ بتاتا ہے: “ان کے معاملے میں ان کی رضامندی کا انتظار ضروری نہیں”۔ جو بڑا غلام پادری کی تنبیہ کے بعد بھی انکار کرتا، اسے مجبور نہیں کرنا تھا۔ 1685 میں فرانس کے کوڈ نوآر نے اس کے امریکی جزیروں کے ہر غلام کو بپتسمہ دینے کا حکم دیا۔
“جن کے پاس گنی کے غلام ہیں، وہ انہیں بپتسمہ دلوائیں۔” کسی بھی حیثیت کا ہر شخص جس کے پاس گنی کے غلام ہوں، انہیں حاصل کرنے کے چھ مہینے کے اندر بپتسمہ دلوا کر مسیحی بنائے، “ورنہ وہ انہیں مانگنے والے کو مل جائیں گے”۔ اگر دس سال سے بڑا کوئی غلام مالک کے کہنے پر مسیحی نہ بننا چاہے تو مالک کلیسا کے پرائر یا پادری کو بتائے؛ اگر پادری کی تنبیہ اور گواہوں کے سامنے پوچھے جانے کے بعد بھی غلام بپتسمہ سے انکار کرے تو مالک پر کوئی سزا نہیں۔ دس سال یا اس سے کم عمر غلاموں کو ایک مہینے میں بپتسمہ دیا جائے، “کیونکہ ان کے معاملے میں ان کی رضامندی کا انتظار ضروری نہیں”۔ گنی کی لونڈیوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو مسیحی بچوں کے معمول کے وقت پر بپتسمہ دیا جائے۔ یہ ضابطہ 1603 میں جاری ہوا اور اس کی پانچویں کتاب برازیل میں 1830 کے ضابطۂ فوجداری تک نافذ رہی۔
ان لاکھوں مغربی افریقی مسلمانوں کی تاریخ جنہیں سولہویں سے انیسویں صدی تک امریکی براعظموں میں غلام بنایا گیا۔ یہ سینیگیمبیا، فولا علاقوں، ہاؤسا لینڈ اور قدیم مالی کے علاقے تک غلاموں کی تجارت کے راستوں کا سراغ لگاتی ہے؛ دکھاتی ہے کہ بہت سے قیدی عربی پڑھ اور لکھ سکتے تھے؛ ایوبا سلیمان دیالو، عمر بن سعید اور بلالی محمد کی زندگیاں بیان کرتی ہے؛ جبری بپتسمہ، نئے ناموں اور اسلامی عبادات پر عمل کے خلاف دباؤ کو بیان کرتی ہے؛ 1835 کی بحیہ بغاوت کا احاطہ کرتی ہے؛ اور وضاحت کرتی ہے کہ ان کی اولاد میں اسلام کیوں باقی نہ رہا۔
فرانس کے امریکی جزائر میں غلامی کو منظم کرنے والا فرانسیسی شاہی فرمان۔ اس کی دوسری دفعہ حکم دیتی ہے کہ جزائر کے تمام غلاموں کو بپتسمہ دیا جائے اور انہیں کیتھولک، رسولی اور رومی مذہب کی تعلیم دی جائے، اور یہ کہ جو آباد کار نئے آنے والے افریقیوں کو خریدیں وہ ایک ہفتے کے اندر گورنر اور منتظم کو ان کی اطلاع دیں، جو انہیں تعلیم اور بپتسمہ دلوائیں گے۔
یہودیت: موسیٰ کی شریعت اور اس کی عدالتیں
موسیٰ کی شریعت اس شخص کو موت کا حکم دیتی ہے جو چپکے سے دوسروں کو دوسرے معبودوں کی عبادت پر اکسائے۔ یہ بھائی یا بیٹے پر بھی لاگو ہے۔ وہ اس شخص کو سنگسار کرنے کا حکم دیتی ہے جو دوسرے معبودوں کی عبادت کرتا پایا جائے، دو یا تین گواہوں کی بات پر۔ پھر بھی ربیوں نے ایسے فیصلوں کو بہت نایاب بنا دیا۔ مشناہ بائبل کے بعد یہودی قانون کا سب سے پرانا تحریری مجموعہ ہے۔ وہ اس عدالت کو تباہ کن عدالت کہتی ہے جو سات سال میں ایک بار کسی کو موت کی سزا دے۔ ربی طرفون اور ربی عقیبا نے کہا کہ ان کی عدالت میں کبھی کسی کو موت کی سزا نہ ہوتی۔ جدید اسرائیل میں بھی یہودیت چھوڑنے کی قانونی قیمت ہے۔ 1962 میں اس کی سپریم کورٹ نے ایک ایسے آدمی کے مقدمے کا فیصلہ کیا جو یہودی پیدا ہوا اور کیتھولک بن گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ قانونِ واپسی کے تحت وہ یہودی شمار نہیں ہوگا۔
“اگر تیرا بھائی، جو تیری ماں کا بیٹا ہو، یا تیرا بیٹا یا تیری بیٹی، یا تیری ہم آغوش بیوی، یا تیرا دوست جو تجھ کو اپنی جان کے برابر عزیز ہو، تجھ کو چپکے چپکے پھسلا کر کہے کہ چلو، ہم اور دیوتاؤں کی پوجا کریں جن سے تو اور تیرے باپ دادا واقف بھی نہیں؛ یعنی ان لوگوں کے دیوتا جو تمہارے گردا گرد تیرے نزدیک یا تجھ سے دور رہتے ہیں، زمین کے اس سرے سے اس سرے تک؛ تو تو اس پر اس کے ساتھ رضامند نہ ہونا، اور نہ اس کی سننا؛ تو اس پر ترس بھی نہ کھانا، اور نہ اس کی رعایت کرنا، اور نہ اسے چھپانا: بلکہ تو اس کو ضرور قتل کرنا؛ اسے قتل کرنے کے لیے پہلے تیرا ہاتھ اس پر پڑے، اس کے بعد سب قوم کا ہاتھ۔ اور تو اسے سنگسار کرنا تاکہ وہ مر جائے؛ کیونکہ اس نے یہ چاہا کہ تجھ کو خداوند تیرے خدا سے، جو تجھ کو ملک مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکال لایا، برگشتہ کر دے۔”
“اگر تیری بستیوں میں جنہیں خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے، تمہارے درمیان کوئی مرد یا عورت ملے جس نے خداوند تیرے خدا کے حضور یہ بدکاری کی ہو کہ اس کے عہد کو توڑا ہو، اور جا کر اور دیوتاؤں کی، یا سورج یا چاند یا آسمانی لشکر میں سے کسی کی، جس کا حکم میں نے نہیں دیا، پوجا اور پرستش کی ہو؛ اور یہ بات تجھ کو بتائی جائے، اور تیرے سننے میں آئے، اور تو نے خوب تحقیقات کی ہو، اور دیکھو، یہ سچ ہو اور یقینی ہو کہ اسرائیل میں ایسا مکروہ کام ہوا: تو تو اس مرد یا اس عورت کو، جس نے یہ برا کام کیا ہو، اپنے پھاٹکوں پر نکال لے جانا، یعنی اسی مرد یا عورت کو، اور ان کو ایسا سنگسار کرنا کہ وہ مر جائیں۔ جو واجب القتل ٹھہرے وہ دو یا تین گواہوں کی گواہی سے مارا جائے؛ مگر ایک ہی گواہ کی گواہی سے وہ مارا نہ جائے۔”
جو سنہیڈرن (یہودی اعلیٰ عدالت) سات سال میں ایک بار کسی آدمی کو موت کی سزا دے، اسے تباہ کن عدالت کہا جاتا ہے۔ ربی العازر بن عزریا کہتے ہیں: ستر سال میں ایک بار۔ ربی طرفون اور ربی عقیبا کہتے ہیں: اگر ہم سنہیڈرن میں ہوتے تو کبھی کسی کو موت کی سزا نہ ہوتی۔ ربان شمعون بن گملی ایل جواب دیتے ہیں کہ تب وہ اسرائیل میں قاتلوں کو بڑھا دیتے۔
اوسوالڈ روفائزن پیدائشی یہودی تھا مگر کیتھولک مذہب اختیار کر چکا تھا۔ 1962 کے اس مقدمے (16 PD 2428) میں، جس نے طے کیا کہ قانونِ واپسی کے لیے یہودی کون ہے، اسرائیل کی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ وہ مرتد ہے اور قانونِ واپسی کے لیے یہودی کی شرط پوری نہیں کرتا۔
بھارت اور میانمار کے جدید قوانین
کچھ ممالک آج بھی مذہب بدلنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ یہ ریاست کے قوانین ہیں، ہندو مت یا بدھ مت کی تعلیم نہیں۔ 2023 تک بھارت کی دس ریاستوں میں طاقت، دھوکے یا انعام کے لالچ سے مذہب کی تبدیلی کے خلاف قوانین تھے۔ یہ قوانین کہتے ہیں کہ وہ صرف جبری تبدیلی کو روکتے ہیں۔ مگر اتر پردیش کے 2021 کے قانون کو دیکھیے۔ مذہب بدلنے کے خواہش مند کو 60 دن پہلے ضلع مجسٹریٹ، یعنی مقامی افسر، کو بتانا ہوتا ہے۔ پھر پولیس تبدیلی کے “اصل ارادے، مقصد اور وجہ” کی تحقیق کرتی ہے۔ اس کے بعد نیا مذہب “دفتر کے نوٹس بورڈ پر” لگا دیا جاتا ہے۔ اطلاع دیے بغیر مذہب بدلنے پر تین سال تک قید ہو سکتی ہے۔ زیادہ تر بدھ مت کے ماننے والوں کے ملک میانمار میں 2015 کے ایک قانون نے ہر مقامی علاقے میں ایک بورڈ بنایا۔ مذہب بدلنے کے خواہش مند کو درخواست دینی، وجوہات بتانی اور انٹرویو دینا ہوتا ہے۔ پھر بورڈ کے فیصلے سے پہلے 90 دن کا مطالعے کا دور ہوتا ہے۔ اپنے عقیدے کے بارے میں پولیس کے سوال اور عوامی اعلان کم ہی لوگ چاہتے ہیں۔ اس لیے ایسے قوانین لوگوں کو مذہب بدلنے ہی سے روک سکتے ہیں۔
2023 تک بھارت کی دس ریاستوں کے اپنے قوانین تھے جو طاقت، لالچ یا دھوکے سے مذہب کی تبدیلی کے خلاف ہیں۔ تبدیلیٔ مذہب مکمل طور پر ممنوع نہیں اور قانونی طریقۂ کار کی پیروی کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ کی اجازت سے کی جا سکتی ہے۔ اتر پردیش کا غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کی ممانعت کا آرڈیننس، 2020، جسے 2021 میں منظوری ملی، مجرموں کے لیے ایک سے دس سال قید مقرر کرتا ہے، یا دو سے دس سال جب مذہب بدلنے والا نابالغ، عورت یا درج فہرست ذات یا قبیلے کا رکن ہو؛ بغیر اجازت کی بین المذاہب شادی بھی جرم ہے۔
دفعہ 8: مذہب بدلنے کا خواہش مند کم از کم ساٹھ دن پہلے ضلع مجسٹریٹ کو اقرار نامہ دے گا؛ ضلع مجسٹریٹ مجوزہ تبدیلیٔ مذہب کے “اصل ارادے، مقصد اور وجہ” کی پولیس سے تحقیق کرائے گا؛ اقرار نامہ نہ دینے پر چھ مہینے سے تین سال تک قید۔ دفعہ 9: مذہب بدلنے کے بعد شخص ساٹھ دن کے اندر دوسرا اقرار نامہ بھیجے گا، جس میں اس کی تفصیلات اور پرانا اور نیا مذہب ہوگا؛ ضلع مجسٹریٹ اسے “دفتر کے نوٹس بورڈ پر” لگائے گا؛ شخص کو 21 دن کے اندر اس کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ دفعہ 5 (2024 میں ترمیم شدہ): غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب پر تین سے دس سال قید۔
اگست 2015 میں پارلیمان سے منظور ہونے والے میانمار کے تبدیلیٔ مذہب کے قانون پر: یہ ہر ٹاؤن شپ میں تبدیلیٔ مذہب کی جانچ اور اندراج کا ایک بورڈ بنائے گا۔ 18 سال سے زائد عمر کا جو بھی مذہب بدلنا چاہے، وہ تبدیلی کی وجوہات بتاتے ہوئے درخواست دے گا۔ بورڈ کے کم از کم پانچ ارکان درخواست گزار کا انٹرویو لیں گے، پھر 90 دن کا مطالعے کا دور ہوگا، اور بورڈ کی منظوری پر ہی تبدیلیٔ مذہب کا سرٹیفکیٹ ملے گا۔ ہیومن رائٹس واچ نے اسے “ضمیر اور مذہب کی آزادی کے حق میں ریاست کی سراسر بلاجواز مداخلت” کہا۔
60 دن پہلے
ضلع مجسٹریٹ کو بتانا کہ آپ مذہب بدلنا چاہتے ہیں۔
پولیس کی تحقیق
پولیس اصل ارادے، مقصد اور وجہ کی جانچ کرتی ہے۔
بعد کے 60 دن میں
پرانے اور نئے مذہب کے ساتھ دوسرا اقرار نامہ بھیجنا۔
عوامی اعلان
یہ مجسٹریٹ کے دفتر کے نوٹس بورڈ پر لگایا جاتا ہے۔
21 دن کے اندر
تصدیق کے لیے مجسٹریٹ کے سامنے خود پیش ہونا۔
سرکاری طور پر ملحد ریاستیں
سرکاری طور پر ملحد ریاستیں بھی مذہب پر پابندی لگاتی ہیں۔ 2014 میں اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیق نے شمالی کوریا کا جائزہ لیا۔ اس نے پایا کہ وہاں “فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی کے حق سے تقریباً مکمل انکار” ہے۔ چین میں آئین ہر شہری کو مذہبی عقیدے کی آزادی دیتا ہے۔ مگر حکمران پارٹی اپنے ارکان کے لیے اپنا قاعدہ بناتی ہے۔ 2011 میں پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے لکھا: “چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے ارکان کسی مذہب پر ایمان نہیں رکھیں گے”۔ چنانچہ پارٹی کا کوئی رکن مسلمان ہو تو وہ پارٹی کا قاعدہ توڑے گا۔
“کمیشن پاتا ہے کہ فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی کے حق سے تقریباً مکمل انکار ہے”۔ ریاست کے زیرِ کنٹرول چند گرجوں کے سوا، مسیحیوں کو اپنے مذہب پر عمل کی ممانعت ہے اور انہیں ستایا جاتا ہے؛ مسیحیت پر عمل کرتے پکڑے جانے والوں کو سخت سزائیں ملتی ہیں۔
“چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے ارکان کسی مذہب پر ایمان نہیں رکھیں گے”، پارٹی کے یونائیٹڈ فرنٹ ورک ڈیپارٹمنٹ کے ژو وی چُن نے پارٹی جریدے چیوشی میں لکھا۔ انہوں نے کہا کہ چین میں مذہبی عقیدے کی آزادی کا مطلب ہے کہ ہر شہری ایمان رکھ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی، اور “جو لوگ سی پی سی کے رکن نہیں، انہیں مذہبی عقیدے کی آزادی ہے”۔
آج: اپنے ہی گھر والوں کے ٹھکرائے ہوئے
آج مسیحی اکثریت والے ممالک میں قانون مذہب بدلنے پر سزا نہیں دیتا۔ مگر نومسلم اکثر گھر میں اس کی قیمت چکاتے ہیں۔ 2010 میں سوانسی یونیورسٹی کے کیون برائس نے برطانیہ میں اسلام قبول کرنے والوں کا سروے کیا۔ دو تہائی (66%) نے کہا کہ ان کے گھر والوں کا ان کے قبولِ اسلام کے بارے میں رویہ منفی تھا۔ بہت سے خاندان وقت کے ساتھ نرم پڑ گئے۔ مگر ان میں سے 28% خاندان منفی ہی رہے۔ نومسلموں نے “سابقہ خاندان اور دوستوں سے الگ تھلگ ہو جانے” کی بات کی۔
فیتھ میٹرز کے لیے برطانیہ میں اسلام قبول کرنے والوں کا سروے۔ “زیادہ تر (66%) جواب دہندگان نے بتایا کہ ان کے گھر والوں کا ان کے قبولِ اسلام کے بارے میں رویہ منفی تھا۔ صرف 11% نے مثبت رویہ بتایا، جبکہ 12% غیر جانبدار تھے۔” “منفی رویہ بتانے والوں میں سے 43% نے کہا کہ وقت کے ساتھ ان کے گھر والوں کا رویہ مثبت ہو گیا، 30% غیر جانبدار ہو گئے اور 28% منفی رہے۔” نومسلموں کے اپنے الفاظ میں ہے: “سابقہ خاندان اور دوستوں سے الگ تھلگ ہو جانے”۔
- 66%شروع میں منفی خاندان
- 11%شروع میں مثبت خاندان
- 28%منفی خاندانوں میں سے، بعد میں بھی منفی
ارتداد پر اسلام کا قانون: غداری کے خلاف قانون
اسلامی قانون میں ارتداد، یعنی دین چھوڑنے، کی سزا واقعی تھی۔ یہ نبی (ﷺ) کے فرامین سے آتی ہے، قرآن سے نہیں۔ وہ فرامین غداری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک حدیث میں آپ اپنا دین چھوڑنے والے کا ذکر کرتے ہیں، “جماعت سے الگ ہونے والا”۔ ایک اور حدیث اس آدمی کا ذکر کرتی ہے “جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے نکلے”۔ ابو داود نے اسے ارتداد کے باب میں رکھا۔ ایک مختصر حدیث کہتی ہے: “جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو”۔ لمبی احادیث کے ساتھ پڑھیں تو اس سے مراد وہ ہے جو جماعت سے لڑنے کے لیے اسے چھوڑ دے۔ مدینہ میں مسلمان جنگ میں گھری ایک چھوٹی جماعت تھے۔ انہیں چھوڑنے کا مطلب دشمن سے جا ملنا ہو سکتا تھا۔ کچھ لوگوں نے تو دوسروں کو ڈگمگانے کے لیے ایمان کا دکھاوا کر کے اسے چھوڑ دینے کا منصوبہ بھی بنایا۔ قرآن صبح ایمان لانے اور پھر “شام کے وقت کافر بن جاؤ” کا منصوبہ بیان کرتا ہے۔ حنفی مسلک، جو اسلامی فقہ کے بڑے مسالک میں سے ہے، اس کی وجہ صاف بتاتا ہے۔ کفر کی سزا آخرت کے لیے رکھی گئی ہے۔ دنیا کی سزا صرف “جنگ کرنے” کو روکنے کے لیے ہے۔ اس طرح پڑھیں تو سزا اس کے لیے تھی جو اسلام چھوڑ کر جماعت کے خلاف ہو جائے۔ ممالک آج بھی غداری کی سزا دیتے ہیں؛ امریکہ میں اس کی سزا موت ہو سکتی ہے۔
عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی (ﷺ) نے فرمایا کہ جو مسلمان گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اس کے رسول ہیں، اس کا خون صرف تین صورتوں میں بہایا جا سکتا ہے: جان کے بدلے جان، شادی شدہ شخص جو زنا کرے، اور وہ جو دین سے نکل جائے، جماعت سے الگ ہونے والا (al-mariq min al-din al-tarik lil-jamaʿa)۔
عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی (ﷺ) نے فرمایا کہ کسی مسلمان کا خون تین میں سے کسی ایک وجہ ہی سے جائز طور پر بہایا جا سکتا ہے: شادی شدہ مرد جو زنا کرے؛ وہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے نکلے؛ یا وہ جو قتل کرے۔ ابو داود نے یہ حدیث “مرتد کے بارے میں حکم” کے باب میں رکھی ہے۔
عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب علی نے کچھ بے دینوں کو جلایا تو ابن عباس نے کہا کہ وہ انہیں نہ جلاتے، کیونکہ نبی (ﷺ) نے کسی کو اللہ کے عذاب یعنی آگ سے سزا دینے سے منع فرمایا ہے۔ وہ اس کے بجائے انہیں قتل کرواتے، کیونکہ نبی نے فرمایا: جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔
“اور اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا کہ جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیا ہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ، تاکہ یہ لوگ بھی پلٹ جائیں۔”
حنفی فقہ کی معیاری کتاب بتاتی ہے کہ اسلام چھوڑنے والی عورت کو قتل کیوں نہیں کیا جاتا۔ اصول یہ ہے کہ کفر کی سزائیں آخرت کے لیے رکھی گئی ہیں، کیونکہ انہیں پہلے دینا اس زندگی کے آزمائش ہونے کا مطلب بگاڑ دے گا۔ دنیا کی سزا اس اصول سے صرف ایک فوری نقصان کو روکنے کے لیے ہٹتی ہے، جو جنگ کرنا (al-hirab) ہے۔ عورتوں سے اس کی توقع نہیں، اس لیے اسلام چھوڑنے والی عورت کو روکا جاتا ہے، قتل نہیں کیا جاتا۔
جو کوئی ریاست ہائے متحدہ سے وفاداری کا پابند ہو اور اس کے خلاف جنگ کرے، یا اس کے دشمنوں کا ساتھ دے، انہیں مدد اور سہارا دے، وہ غداری کا مجرم ہے، اور اسے موت کی سزا دی جائے گی، یا کم از کم پانچ سال قید اور جرمانہ کیا جائے گا۔
اگر کوئی اسلام چھوڑ دے تو کیا ہوتا ہے؟
یہ قانون صرف مسلم ریاست میں نافذ ہو سکتا تھا، اور صرف اس کا حکمران یا اس کا نائب ہی اسے نافذ کر سکتا تھا۔ کسی رشتہ دار یا کسی عام شخص کو یہ حق کبھی حاصل نہیں تھا۔ اکثر علما کی شرط تھی کہ پہلے اس شخص کو واپس آنے کی دعوت دی جائے۔ حنبلی مسلک، جو ایک اور فقہی مسلک ہے، اسے تین دن دیتا تھا۔ اگر وہ پھر سے ایمان کے کلمات کہہ دیتا تو عدالت انہیں مان لیتی اور اس کا دل نہیں ٹٹولتی تھی۔ حنفی مسلک اس پر عورت کو موت کی سزا دیتا ہی نہیں تھا۔ عورتوں سے جنگ کرنے کی توقع نہیں تھی۔ قرآن ان کا ذکر کرتا ہے “جن لوگوں نے ایمان قبول کر کے پھر کفر کیا، پھر ایمان لاکر پھر کفر کیا”۔ وہ ان کے لیے دنیا کی کوئی سزا مقرر نہیں کرتا۔ آج زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک میں ارتداد کے خلاف کوئی قانون نہیں۔
حنبلی فقیہ ابن قدامہ کا موقف ہے کہ اصولاً کوئی بھی مقررہ سزا (حد) حکمران (امام) یا اس کے مقرر کردہ نائب کے سوا کوئی نافذ نہیں کر سکتا۔ وہ صرف ایک استثنا مانتے ہیں: آقا اور اس کے اپنے غلام کے بارے میں ایک پرانا حکم، جس کا آج کوئی اطلاق نہیں۔
خرقی کے اس اصول پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ مرتد، مرد ہو یا عورت، جو بالغ اور عاقل ہو، کسی بھی سزا سے پہلے تین دن تک اسلام کی طرف واپس بلایا جائے، ابن قدامہ، جو حنبلی فقیہ ہیں، درج کرتے ہیں کہ مرتد کو توبہ کی دعوت دینا اکثر علما کی رائے ہے، اور یہی عمر کا فیصلہ تھا۔
اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑائی میں انہوں نے ایک آدمی کو اس وقت قتل کر دیا جب وہ “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں” کہہ چکا تھا، یہ سمجھ کر کہ اس نے یہ صرف اپنی جان بچانے کے لیے کہا۔ نبی (ﷺ) نے بار بار پوچھا: کیا تم نے اسے یہ کہنے کے بعد قتل کر دیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ اسامہ نے کہا کہ کاش وہ اس دن سے پہلے مسلمان نہ ہوئے ہوتے۔
حنفی فقہ کی یہ معیاری کتاب کہتی ہے کہ جو عورت اسلام چھوڑ دے اسے قتل نہیں کیا جاتا۔ اسے روک کر رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اسلام کی طرف لوٹ آئے۔
حنفی فقہ کی معیاری کتاب بتاتی ہے کہ اسلام چھوڑنے والی عورت کو قتل کیوں نہیں کیا جاتا۔ اصول یہ ہے کہ کفر کی سزائیں آخرت کے لیے رکھی گئی ہیں، کیونکہ انہیں پہلے دینا اس زندگی کے آزمائش ہونے کا مطلب بگاڑ دے گا۔ دنیا کی سزا اس اصول سے صرف ایک فوری نقصان کو روکنے کے لیے ہٹتی ہے، جو جنگ کرنا (al-hirab) ہے۔ عورتوں سے اس کی توقع نہیں، اس لیے اسلام چھوڑنے والی عورت کو روکا جاتا ہے، قتل نہیں کیا جاتا۔
“جن لوگوں نے ایمان قبول کر کے پھر کفر کیا، پھر ایمان لاکر پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے، اللہ تعالیٰ یقیناً انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں راہ ہدایت سمجھائے گا۔”
2019 میں 198 ممالک اور علاقوں میں سے 79 (40%) میں توہینِ مذہب کے خلاف قوانین یا پالیسیاں تھیں، جن میں یورپ کے کچھ ممالک بھی شامل تھے، اور 22 میں ارتداد کے خلاف قوانین تھے۔
غداری کے خلاف قانون
حدیث جماعت چھوڑنے کی بات کرتی ہے۔ احناف سزا کو جنگ کرنے سے جوڑتے ہیں۔
صرف مسلم ریاست میں
صرف اس کا حکمران یا اس کا نائب کارروائی کر سکتا تھا۔ کبھی کوئی رشتہ دار یا عام شخص نہیں۔
پہلے واپسی کی دعوت
اکثر علما شخص کو واپسی کی دعوت دینا ضروری سمجھتے تھے؛ حنبلی مسلک تین دن دیتا تھا۔
اس کی بات کافی تھی
اگر وہ پھر سے ایمان کے کلمات کہہ دیتا تو عدالت اس کا دل نہیں ٹٹولتی تھی۔
عورتیں محفوظ
حنفی مسلک اس پر عورت کو موت کی سزا نہیں دیتا تھا، کیونکہ عورتوں سے جنگ کرنے کی توقع نہیں تھی۔
تشدد کا الزام دونوں طرف لاگو ہوتا ہے
اسلام کو اکثر ارتداد، یعنی دین چھوڑنے، کے اپنے قانون کی وجہ سے پرتشدد اور وحشی کہا جاتا ہے۔ مگر مذہب بدلنے پر سزا دینا اسلام کی ایجاد نہیں تھی۔ مسیحی روم نے اسلام کے آنے سے پہلے یہ کیا۔ قشتالہ، پرتگال اور انکوزیشن نے صدیوں بعد تک یہ کیا۔ قرآن خود اسلام چھوڑنے والے پر لوگوں کے ہاتھوں نافذ ہونے والی کوئی سزا مقرر نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے: “دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں”۔ کوئی مسلمان کسی کو مذہب بدلنے پر نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
“دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے۔”
“جب رومی سلطنت مسیحی ہوئی تو مرتدین کو تمام شہری حقوق سے محروم کر کے سزا دی گئی۔ وہ عدالت میں گواہی نہیں دے سکتے تھے، اور نہ جائیداد کی وصیت کر سکتے تھے، نہ وراثت پا سکتے تھے۔” یہ تھیوڈوسی ضابطہ، کتاب 16، عنوان 7 (مرتدین کے بارے میں)، اور ضابطۂ جسٹینین، کتاب 1، عنوان 7 کا حوالہ دیتا ہے۔ “قرونِ وسطیٰ میں شہری اور کلیسائی دونوں قوانین مرتدین کو بدعتیوں کے ساتھ رکھتے تھے۔”
قشتالہ کے بادشاہ الفانسو دہم کے ضابطۂ قانون میں مسلمانوں (موروں) پر عنوان۔ قانون 2 کہتا ہے کہ مسیحیوں کو مسلمانوں کو اچھی باتوں اور وعظ سے دین میں لانا چاہیے، “طاقت سے نہیں”، اور انہیں مجبور کرنے سے منع کرتا ہے۔ قانون 4 کہتا ہے کہ جو مسیح کا ایمان چھوڑ کر مور بن جاتے ہیں، وہ بہت بڑی بدی اور غداری کرتے ہیں؛ اگر ایسا شخص ہماری سلطنت میں کہیں ملے تو “اسے اس پر مرنے دیا جائے” (que muera por ello)۔ قانون 5 کہتا ہے کہ مرتد، یعنی وہ مسیحی جو یہودی یا مور بنا اور پھر توبہ کر کے لوٹ آیا، پھر بھی بغیر سزا نہیں چھوٹے گا: اس پر ہمیشہ کے لیے بدنامی کا داغ لگے گا، اس کی گواہی کبھی قبول نہیں ہوگی، وہ کوئی عہدہ نہیں پا سکے گا، اور نہ وصیت کر سکے گا، نہ کسی کا وارث بن سکے گا۔
| قانون | اس میں کیا تھا | کون کارروائی کر سکتا تھا |
|---|---|---|
| موسیٰ کی شریعت | دوسروں کو دوسرے معبودوں کی طرف اکسانے پر موت؛ ان کی عبادت پر سنگساری | عدالت، دو یا تین گواہوں پر؛ ربیوں نے اسے بہت نایاب بنا دیا |
| مسیحی روم | کوئی شہری حقوق نہیں: نہ گواہی، نہ وصیت، نہ وراثت | ریاست |
| قشتالہ، 13ویں صدی | مسلمان ہونے والے مسیحی کو موت | بادشاہ کی عدالتیں |
| انکوزیشن | اسلام پر قائم رہنے یا اسے قبول کرنے پر جلانا | کلیسا کی عدالت، فیصلہ ریاست نافذ کرتی تھی |
| اسلامی قانون | جماعت چھوڑنے پر حدیث سے لی گئی سزا، جسے غداری سمجھا گیا؛ پہلے واپسی کی دعوت | صرف حکمران کی عدالت، مسلم ریاست میں |
| بھارت، دس ریاستیں (آج) | اتر پردیش: 60 دن کی اطلاع، پولیس کی تحقیق، عوامی اعلان؛ غیر قانونی تبدیلی پر تین سے دس سال | ضلع مجسٹریٹ، پولیس اور عدالتیں |
| میانمار (2015) | وجوہات کے ساتھ درخواست، انٹرویو، 90 دن کا مطالعہ، پھر سرٹیفکیٹ | ہر مقامی علاقے میں ایک بورڈ |
مختلف نقطۂ نظر
مرکزی دھارے کے مسیحی
آج کے مسیحی ان سزاؤں کو رد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے قوانین اپنے زمانے کے بادشاہوں اور عدالتوں سے آئے تھے، انجیل سے نہیں، اور مسیحی ممالک نے انہیں بہت پہلے چھوڑ دیا۔
یہ بادشاہوں کے قوانین تھے، مسیح کی تعلیم نہیں۔
تردید
انکوزیشن کلیسا کی عدالت تھی۔ 1680 میں اس نے اسلام پر قائم ایک آدمی کو زندہ جلوایا۔ کلیسا کے سب سے بڑے معلم تھامس ایکویناس نے سکھایا کہ جو ہٹ دھرمی سے کسی غلط عقیدے پر جما رہے، اسے ریاست کے حوالے کیا جائے تاکہ اسے قتل کیا جائے۔
مسیحی ممالک نے ایسے قوانین چھوڑ دیے، جبکہ کچھ ممالک میں آج بھی ارتداد کے خلاف قوانین ہیں۔
تردید
مسیحی ممالک نے انہیں صدیوں تک نافذ کرنے کے بعد ہی چھوڑا۔ قرآن اسلام چھوڑنے پر دنیا کی کوئی سزا مقرر نہیں کرتا اور دین میں زبردستی سے منع کرتا ہے۔ اس لیے یہ الزام کہ صرف اسلام مذہب بدلنے والوں پر ظالم ہے، ٹھہرتا نہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر
صدیوں تک مسیحی حکمرانوں نے لوگوں کو مسلمان ہونے یا مسلمان رہنے پر سزا دی۔ قرآن کہتا ہے کہ کسی کو کسی دین پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام مانگتا ہے کہ اسے اس کی اپنی تعلیم سے پرکھا جائے، جیسے مسیحی اپنے دین کے لیے مانگتے ہیں۔
13ویں صدی میں قشتالہ کے ضابطۂ قانون نے مسلمان ہونے والے مسیحی کو موت کی سزا دی۔
1512 میں پرتگالیوں نے مسلمان ہو چکے فرناؤ لوپیز کی ناک، کان اور دایاں ہاتھ کاٹ دیا۔ اس سے جان بخشی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ہسپانوی انکوزیشن نے 1680 میں ایک آدمی کو اپنے اسلام پر قائم رہنے پر زندہ جلا دیا۔
پرتگال کے 1603 کے قانون نے افریقہ سے لائے گئے غلاموں کو بپتسمہ دینے کا حکم دیا، اور بچوں کو ان کی رضامندی کے بغیر۔
ایک برطانوی سروے میں اسلام قبول کرنے والوں میں سے دو تہائی کو اپنے گھر والوں کی منفی ردعمل کا سامنا ہوا۔
اسلامی قانون میں صرف حکمران کی عدالت ہی ارتداد پر کارروائی کر سکتی تھی، اور وہ پہلے شخص کو واپس آنے کی دعوت دیتی تھی۔ کوئی رشتہ دار یا عام شخص کارروائی نہیں کر سکتا تھا۔
قرآن کہتا ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں۔