مختصر جواب

نہیں۔ ان آیات میں انگریزی لفظ ‘worship’ (سجدہ / عبادت) یونانی لفظ پروسکونیو کی جگہ آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی کے آگے جھکنا یا گھٹنے ٹیکنا۔ لوگ یہ بادشاہوں اور معزز آدمیوں کے لیے کرتے تھے، صرف خدا کے لیے نہیں۔ یسوع کی ایک تمثیل میں ایک نوکر نے اس بادشاہ کو “سجدہ کیا” جس کا وہ قرض دار تھا۔ بائبل کی آخری کتاب مکاشفہ میں یسوع کہتے ہیں کہ ایک کلیسیا کے دشمن اس کے ارکان کے پاؤں کے آگے “سجدہ کریں” گے۔ کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ وہ بادشاہ یا وہ مسیحی خدا تھے۔ شاگردوں کے یسوع کے آگے جھکنے کے بعد لوقا کہتا ہے کہ وہ ہیکل میں “خدا کی حمد اور شکر کیا کرتے تھے”۔ مسیحی جن مناظر کا حوالہ دیتے ہیں ان میں سے کسی میں یسوع سے کوئی دعا درج نہیں۔ خود یسوع نے کہا کہ صرف خدا ہی کی عبادت کی جائے۔ اسلام بھی یہی سکھاتا ہے: قرآن بتاتا ہے کہ عیسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ اللہ (﷾) کی عبادت کرو، جو ان کا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔

مکمل وضاحت پڑھیں

اپنے محفوظ کردہ صفحات دیکھیں