مختصر جواب
نہیں۔ کچھ مسلمان ممالک دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ہیں، اور کچھ مسیحی ممالک غریب ترین میں سے۔ 2024 میں قطر کی فی کس پیداوار تقریباً 110,900 ڈالر تھی، برونائی کی 79,200 ڈالر اور متحدہ عرب امارات کی 68,600 ڈالر۔ زیادہ تر مسیحی آبادی والے برونڈی میں یہ رقم 800 ڈالر تھی، اور جمہوریہ کانگو میں 1,500 ڈالر۔ اگر مذہب دولت کا فیصلہ کرتا تو یہ اعداد ساتھ ساتھ نہ ہوتے۔ امیر اور غریب کو جو چیز الگ کرتی ہے وہ امن، دیانت دار حکومت، وسائل اور تاریخ ہے۔ صومالیہ اور یمن برسوں کی جنگ سے تباہ ہوئے۔ بہت سی مسلمان سرزمینوں پر بیسویں صدی تک یورپی سلطنتوں کی حکومت رہی۔ مغل ہندوستان ساری دنیا سے سونا اور چاندی اپنی طرف کھینچتا تھا۔ برطانوی حکومت کے دور میں ایک ہندوستانی ماہر معاشیات نے دولت کے 30 ملین پاؤنڈ سالانہ کے انخلا کا حساب لگایا۔
مکمل وضاحت
امیر اور غریب، مسلمان اور مسیحی
امریکی حکومت کی ورلڈ فیکٹ بک ہر ملک کی فی کس پیداوار، قیمتوں کے فرق کے حساب سے، دیتی ہے۔ 2024 کے لیے وہ قطر کی تقریباً 110,900 ڈالر، برونائی کی 79,200 ڈالر، دبئی والے ملک متحدہ عرب امارات کی 68,600 ڈالر، سعودی عرب کی 62,700 ڈالر اور ملائیشیا کی 34,100 ڈالر بتاتی ہے۔ انڈونیشیا، جہاں سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں، جی 20 کے انیس ممالک میں سے ایک ہے، جو مل کر دنیا کی تقریباً 85% پیداوار کرتے ہیں۔ سعودی عرب اور ترکی بھی اس کے رکن ہیں۔ فیکٹ بک غریب مسلمان ممالک بھی درج کرتی ہے، جیسے نائجر 1,800 ڈالر اور صومالیہ 1,400 ڈالر۔ وہ غریب مسیحی ممالک بھی درج کرتی ہے۔ برونڈی، جو تقریباً 94 فیصد مسیحی ہے، 800 ڈالر پر ہے، اور جمہوریہ کانگو، جو تقریباً 93 فیصد مسیحی ہے، 1,500 ڈالر پر۔ وسطی افریقی جمہوریہ 1,100 ڈالر پر ہے، اور جنوبی سوڈان 400 ڈالر پر۔ ایک ہی مذہب فہرست کے اوپر بھی ملتا ہے اور نیچے بھی۔ اس لیے مذہب وہ چیز نہیں ہو سکتا جو انہیں درجوں میں بانٹتا ہے۔
فی کس حقیقی جی ڈی پی دیتی ہے (قوت خرید کی برابری، 2024 کے اندازے، 2021 کے ڈالر): قطر 110,900 ڈالر، برونائی 79,200 ڈالر، متحدہ عرب امارات 68,600 ڈالر، سعودی عرب 62,700 ڈالر، ملائیشیا 34,100 ڈالر، انڈونیشیا 14,500 ڈالر، نائجر 1,800 ڈالر، صومالیہ 1,400 ڈالر، یمن 200 ڈالر؛ برونڈی 800 ڈالر (93.9% مسیحی)، جمہوریہ کانگو 1,500 ڈالر (تقریباً 93% مسیحی)، وسطی افریقی جمہوریہ 1,100 ڈالر (زیادہ تر مسیحی)، جنوبی سوڈان 2023 میں 400 ڈالر (60.5% مسیحی)۔ اس کے نوٹس کہتے ہیں کہ صومالیہ میں 1960 تک برطانیہ، فرانس اور اٹلی کی نوآبادیاں تھیں اور تیس سال کی جنگ اور عدم استحکام نے اس کی معیشت کو مفلوج کر دیا؛ کہ تیل اور گیس پر منحصر یمن کا بنیادی ڈھانچہ، تجارت اور ادارے خانہ جنگی نے تباہ کر دیے؛ کہ افغانستان 1979 کے سوویت حملے کے بعد ایک طویل اور تباہ کن جنگ سے برباد ہوا؛ کہ قطر نے ساٹھ سال کے اندر اپنے آپ کو موتیوں کی تلاش کے لیے مشہور ایک غریب برطانوی زیر حفاظت علاقے سے ہائیڈرو کاربن کی بڑی آمدنی والی ریاست میں بدل دیا، اور اسلامی مالیات میں ایک رہنما ہے؛ کہ ملائیشیا الیکٹرانکس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے جس کی محنت کی پیداواری صلاحیت زیادہ ہے، اور انسداد بدعنوانی کی پالیسیاں نافذ کر رہا ہے؛ اور یہ کہ انڈونیشیا، جسے سترہویں صدی سے ولندیزیوں نے نوآبادی بنایا، جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔
2009 میں دنیا کے مسلمانوں کا ملک وار اندازہ: تقریباً 1.57 ارب۔ تقریباً پانچ میں سے ایک مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رہتا تھا، ایک ایسا خطہ جس میں ترکی اور ایران شامل ہیں، اور دس میں سے چھ سے زیادہ ایشیا میں رہتے تھے۔ چار سب سے بڑی مسلم آبادیاں انڈونیشیا، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں تھیں۔
جی 20 کو 19 ممالک کے علاوہ یورپی یونین اور افریقی یونین کا ایک بین الحکومتی فورم بتاتا ہے۔ اس کے ارکان میں انڈونیشیا، سعودی عرب اور ترکی شامل ہیں۔ 19 رکن ریاستیں دنیا کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 85%، بین الاقوامی تجارت کا 75% اور دنیا کی آبادی کا 56% رکھتی ہیں۔ افریقی یونین 1999 میں گروپ کے آغاز کے بعد پہلا نیا رکن تھی۔
وہی مذاہب اوپر بھی ہیں اور نیچے بھی، اس لیے ان کی ترتیب مذہب سے نہیں ہو سکتی۔
جنگ
کچھ غریب ترین مسلمان ممالک وہ ہیں جنہیں جنگ نے تباہ کر دیا۔ فیکٹ بک کہتی ہے کہ تیس سال کی جنگ اور عدم استحکام نے صومالیہ کی معیشت کو مفلوج کر دیا۔ وہ کہتی ہے کہ یمن کا بنیادی ڈھانچہ، تجارت اور معاشی ادارے خانہ جنگی نے تباہ کر دیے، اور پیداوار تقریباً 200 ڈالر فی کس رہ گئی۔ افغانستان پر 1979 میں سوویت حملہ ہوا اور اس کے بعد کئی دہائیوں تک جنگ رہی۔ جہاں جنگ ہو وہاں کوئی ملک امیر نہیں ہوتا، اس کا مذہب کچھ بھی ہو۔
فی کس حقیقی جی ڈی پی دیتی ہے (قوت خرید کی برابری، 2024 کے اندازے، 2021 کے ڈالر): قطر 110,900 ڈالر، برونائی 79,200 ڈالر، متحدہ عرب امارات 68,600 ڈالر، سعودی عرب 62,700 ڈالر، ملائیشیا 34,100 ڈالر، انڈونیشیا 14,500 ڈالر، نائجر 1,800 ڈالر، صومالیہ 1,400 ڈالر، یمن 200 ڈالر؛ برونڈی 800 ڈالر (93.9% مسیحی)، جمہوریہ کانگو 1,500 ڈالر (تقریباً 93% مسیحی)، وسطی افریقی جمہوریہ 1,100 ڈالر (زیادہ تر مسیحی)، جنوبی سوڈان 2023 میں 400 ڈالر (60.5% مسیحی)۔ اس کے نوٹس کہتے ہیں کہ صومالیہ میں 1960 تک برطانیہ، فرانس اور اٹلی کی نوآبادیاں تھیں اور تیس سال کی جنگ اور عدم استحکام نے اس کی معیشت کو مفلوج کر دیا؛ کہ تیل اور گیس پر منحصر یمن کا بنیادی ڈھانچہ، تجارت اور ادارے خانہ جنگی نے تباہ کر دیے؛ کہ افغانستان 1979 کے سوویت حملے کے بعد ایک طویل اور تباہ کن جنگ سے برباد ہوا؛ کہ قطر نے ساٹھ سال کے اندر اپنے آپ کو موتیوں کی تلاش کے لیے مشہور ایک غریب برطانوی زیر حفاظت علاقے سے ہائیڈرو کاربن کی بڑی آمدنی والی ریاست میں بدل دیا، اور اسلامی مالیات میں ایک رہنما ہے؛ کہ ملائیشیا الیکٹرانکس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے جس کی محنت کی پیداواری صلاحیت زیادہ ہے، اور انسداد بدعنوانی کی پالیسیاں نافذ کر رہا ہے؛ اور یہ کہ انڈونیشیا، جسے سترہویں صدی سے ولندیزیوں نے نوآبادی بنایا، جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔
سلطنت اور دولت کا انخلا
صدیوں تک مسلمان سرزمینیں امیر تھیں۔ فرانسوا برنیئر، ایک فرانسیسی طبیب جو 1660 کی دہائی میں مغل ہندوستان میں رہے، نے لکھا کہ سونا اور چاندی، “دنیا کے ہر دوسرے گوشے میں گردش کرنے کے بعد، آخرکار ہندوستان میں آ کر نگل لیے جاتے ہیں، ایک طرح سے گم ہو جاتے ہیں”۔ پھر یورپی سلطنتیں آئیں۔ برطانیہ، فرانس اور اٹلی کا صومالیہ پر 1960 تک قبضہ رہا۔ ولندیزیوں نے سترہویں صدی سے انڈونیشیا پر حکومت کی۔ 1901 میں ہندوستانی ماہر معاشیات دادا بھائی نوروجی نے، جو خود برطانوی پارلیمنٹ کے رکن تھے، ہندوستان سے برطانیہ کی طرف دولت کے “خون چوسنے” والے انخلا کا اندازہ تقریباً یا 30 ملین پاؤنڈ سالانہ سے زیادہ لگایا۔ انہوں نے 1835 کے ایک برطانوی مصنف کا قول نقل کیا جس نے بنگال میں دو نمایاں حقائق دیکھے: ملک کی دولت مندی، اور اس کے لوگوں کی غربت۔
برنیئر، جو بارہ سال مغل ہندوستان میں رہے، بنگال کو چاول، اناج اور ریشم، کپاس اور نیل جیسے تجارتی سامان میں مصر سے زیادہ مالدار بیان کرتے ہیں، اور ہندوستانی کاریگروں کو جو گھریلو بازار اور برآمد کے لیے قالین، کمخواب اور باریک کپڑے بناتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں: “یہ بات نظر سے اوجھل نہیں رہنی چاہیے کہ سونا اور چاندی، دنیا کے ہر دوسرے گوشے میں گردش کرنے کے بعد، آخرکار ہندوستان میں آ کر نگل لیے جاتے ہیں، ایک طرح سے گم ہو جاتے ہیں۔”
فی کس حقیقی جی ڈی پی دیتی ہے (قوت خرید کی برابری، 2024 کے اندازے، 2021 کے ڈالر): قطر 110,900 ڈالر، برونائی 79,200 ڈالر، متحدہ عرب امارات 68,600 ڈالر، سعودی عرب 62,700 ڈالر، ملائیشیا 34,100 ڈالر، انڈونیشیا 14,500 ڈالر، نائجر 1,800 ڈالر، صومالیہ 1,400 ڈالر، یمن 200 ڈالر؛ برونڈی 800 ڈالر (93.9% مسیحی)، جمہوریہ کانگو 1,500 ڈالر (تقریباً 93% مسیحی)، وسطی افریقی جمہوریہ 1,100 ڈالر (زیادہ تر مسیحی)، جنوبی سوڈان 2023 میں 400 ڈالر (60.5% مسیحی)۔ اس کے نوٹس کہتے ہیں کہ صومالیہ میں 1960 تک برطانیہ، فرانس اور اٹلی کی نوآبادیاں تھیں اور تیس سال کی جنگ اور عدم استحکام نے اس کی معیشت کو مفلوج کر دیا؛ کہ تیل اور گیس پر منحصر یمن کا بنیادی ڈھانچہ، تجارت اور ادارے خانہ جنگی نے تباہ کر دیے؛ کہ افغانستان 1979 کے سوویت حملے کے بعد ایک طویل اور تباہ کن جنگ سے برباد ہوا؛ کہ قطر نے ساٹھ سال کے اندر اپنے آپ کو موتیوں کی تلاش کے لیے مشہور ایک غریب برطانوی زیر حفاظت علاقے سے ہائیڈرو کاربن کی بڑی آمدنی والی ریاست میں بدل دیا، اور اسلامی مالیات میں ایک رہنما ہے؛ کہ ملائیشیا الیکٹرانکس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے جس کی محنت کی پیداواری صلاحیت زیادہ ہے، اور انسداد بدعنوانی کی پالیسیاں نافذ کر رہا ہے؛ اور یہ کہ انڈونیشیا، جسے سترہویں صدی سے ولندیزیوں نے نوآبادی بنایا، جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔
نوروجی، ایک ہندوستانی ماہر معاشیات جو 1890 کی دہائی میں برطانوی پارلیمنٹ کے رکن رہے، دلیل دیتے ہیں کہ برطانوی حکمرانی نے ہندوستان کی دولت کو نچوڑ لیا۔ وہ غیر ملکی تسلط کی طرف سے ‘خون چوسنے’ اور مفلس کرنے والے اس انخلا کا اندازہ تقریباً یا 30,000,000 پاؤنڈ سالانہ سے زیادہ لگاتے ہیں، جو انیسویں صدی کے آغاز میں تقریباً 3,000,000 پاؤنڈ سالانہ تھا۔ وہ بنگال اور بہار کے ایک سروے کی بنیاد پر 1835 میں لکھنے والے منٹگمری مارٹن کا قول نقل کرتے ہیں، جو دو نمایاں حقائق کے بارے میں ہے: ملک کی دولت مندی، اور اس کے لوگوں کی غربت۔
اسلام دولت اور دیانت کے بارے میں کیا سکھاتا ہے
اسلام لوگوں کو کمانے سے نہیں روکتا۔ قرآن کہتا ہے کہ جب جمعہ کی نماز ہو چکے تو ایمان والے زمین میں پھیل جائیں اور اللہ (﷾) کا فضل تلاش کریں۔ وہ تجارت کو حلال اور سود کو حرام کرتا ہے، اور آپس کی رضا مندی سے تجارت کا حکم دیتا ہے۔ وہ حاکموں کو رشوت دینے کے لیے مال استعمال کرنے سے منع کرتا ہے، اور مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کو لوٹائیں اور عدل سے فیصلہ کریں۔ بدعنوانی اور ناانصافی ان احکام کو توڑتی ہیں؛ ان پر عمل نہیں کرتیں۔ فیکٹ بک ملائیشیا کی انسداد بدعنوانی کی پالیسیوں، اس کی الیکٹرانکس کی برآمدات اور اس کی زیادہ پیداواری صلاحیت کا ذکر کرتی ہے، اور قطر کو اسلامی مالیات میں ایک رہنما کہتی ہے۔
“پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو.”
“سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔”
“اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے ہو خرید وفروخت، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے۔”
“اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم وستم سے اپنا کر لیا کرو، حالانکہ تم جانتے ہو۔”
“اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ! اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل وانصاف سے فیصلہ کرو! یقیناً وہ بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ سنتا ہے، دیکھتا ہے۔”
فی کس حقیقی جی ڈی پی دیتی ہے (قوت خرید کی برابری، 2024 کے اندازے، 2021 کے ڈالر): قطر 110,900 ڈالر، برونائی 79,200 ڈالر، متحدہ عرب امارات 68,600 ڈالر، سعودی عرب 62,700 ڈالر، ملائیشیا 34,100 ڈالر، انڈونیشیا 14,500 ڈالر، نائجر 1,800 ڈالر، صومالیہ 1,400 ڈالر، یمن 200 ڈالر؛ برونڈی 800 ڈالر (93.9% مسیحی)، جمہوریہ کانگو 1,500 ڈالر (تقریباً 93% مسیحی)، وسطی افریقی جمہوریہ 1,100 ڈالر (زیادہ تر مسیحی)، جنوبی سوڈان 2023 میں 400 ڈالر (60.5% مسیحی)۔ اس کے نوٹس کہتے ہیں کہ صومالیہ میں 1960 تک برطانیہ، فرانس اور اٹلی کی نوآبادیاں تھیں اور تیس سال کی جنگ اور عدم استحکام نے اس کی معیشت کو مفلوج کر دیا؛ کہ تیل اور گیس پر منحصر یمن کا بنیادی ڈھانچہ، تجارت اور ادارے خانہ جنگی نے تباہ کر دیے؛ کہ افغانستان 1979 کے سوویت حملے کے بعد ایک طویل اور تباہ کن جنگ سے برباد ہوا؛ کہ قطر نے ساٹھ سال کے اندر اپنے آپ کو موتیوں کی تلاش کے لیے مشہور ایک غریب برطانوی زیر حفاظت علاقے سے ہائیڈرو کاربن کی بڑی آمدنی والی ریاست میں بدل دیا، اور اسلامی مالیات میں ایک رہنما ہے؛ کہ ملائیشیا الیکٹرانکس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے جس کی محنت کی پیداواری صلاحیت زیادہ ہے، اور انسداد بدعنوانی کی پالیسیاں نافذ کر رہا ہے؛ اور یہ کہ انڈونیشیا، جسے سترہویں صدی سے ولندیزیوں نے نوآبادی بنایا، جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔
مختلف نقطۂ نظر
ناقدین کیا کہتے ہیں
ناقدین کہتے ہیں کہ اسلام معاشی ترقی کو روکتا ہے، اور خلیجی ممالک صرف تیل کی وجہ سے امیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان ممالک کی حکومت اپنے مذہب کی وجہ سے بری ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ اسلام معاشی ترقی کو روکتا ہے۔
تردید
یہی مذہب قطر میں بھی ہے، جہاں فی کس پیداوار تقریباً 110,900 ڈالر ہے، اور نائجر میں بھی، جہاں یہ 1,800 ڈالر ہے، جبکہ زیادہ تر مسیحی برونڈی 800 ڈالر پر ہے۔ ملائیشیا اور انڈونیشیا نے تجارت اور صنعت کے ذریعے ترقی کی ہے۔ ان فرقوں کی وضاحت امن، دیانت دار حکومت اور تاریخ سے ہوتی ہے؛ مذہب سے نہیں۔
ناقدین کہتے ہیں کہ خلیجی ریاستیں صرف تیل کی وجہ سے امیر ہیں۔
تردید
صرف تیل کسی ملک کو امیر نہیں بناتا: یمن بھی تیل اور گیس پر منحصر ہے، پھر بھی جنگ نے اسے تقریباً 200 ڈالر فی کس پر چھوڑ دیا ہے۔ ملائیشیا نے الیکٹرانکس کے ایک بڑے برآمد کنندہ کے طور پر ترقی کی۔ اصل بات امن ہے اور یہ کہ کسی ملک کی دولت کا انتظام کیسے کیا جاتا ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ مسلمان ممالک کی حکومت اسلام کی وجہ سے بری ہے۔
تردید
قرآن حاکموں کو رشوت دینے سے منع کرتا ہے اور عدل اور امانتیں لوٹانے کا حکم دیتا ہے۔ بری حکومت اسلام کے اصولوں کو توڑتی ہے۔ بہت سی مسلمان سرزمینوں پر ایک صدی یا اس سے زیادہ تک یورپی سلطنتوں کی حکومت بھی رہی، جنہوں نے ان کی دولت نچوڑ لی۔
اسلامی نقطۂ نظر
اسلام غربت کی وجہ نہیں ہے۔ امیر اور غریب ممالک کا مذہب ایک ہی ہے؛ جنگ، سلطنت، بدعنوانی اور تاریخ فرق پیدا کرتے ہیں۔ قرآن دیانت دار تجارت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور رشوت اور ناانصافی سے منع کرتا ہے۔
کچھ مسلمان ممالک دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ہیں اور کچھ مسیحی ممالک غریب ترین میں سے۔
مغل ہندوستان آنے والے ایک فرانسیسی نے لکھا کہ دنیا کا سونا اور چاندی آخرکار وہیں پہنچتا تھا۔
دادا بھائی نوروجی نے برطانوی حکومت کے دور میں ہندوستان سے دولت کے انخلا کا اندازہ تقریباً 30 ملین پاؤنڈ سالانہ لگایا۔
قرآن تجارت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، حاکموں کو رشوت دینے سے منع کرتا ہے اور عدل کا حکم دیتا ہے۔